س : کسی آدمی کے پاس زمین کا ایک پلاٹ ہے جس پر وہ بلڈنگ بنا نے کی قدرت نہیں رکھتا اور نہ اس سے کو ئی فائدہ اٹھا سکتا ہے تو کیا اس پر زکاة واجب ہوگی ؟

س : کسی آدمی کے پاس زمین کا ایک پلاٹ ہے جس پر وہ بلڈنگ بنا نے کی قدرت نہیں رکھتا اور نہ اس سے کو ئی فائدہ اٹھا سکتا ہے تو کیا اس پر زکاة واجب ہوگی ؟
جواب السؤال
بسم اللہ الرحمن الرحیم

جواب : اگر نیت خریدو فروخت کی ہو تو زکاۃ واجب ہو گی اور اگر بیچنے کی نیت نہ ہو ، یا یہ کہ اس بارے میں کو ئی حتمی فیصلہ نہیں کیا تھا ، یا کرایہ پر دینے کی لئے لیا تھا ، تو اس پر زاکاۃ واجب نہیں ہو گی ، اہل علم کی یہی رائے ہے ، اس حدیث کے پیش نظر جسےحضرت ابو داود نے سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم زکاۃ اس مال میں سے نکا لیں جسے خریدوفروخت کی نیت سے لیا گیا ہو ، واللہ والی التو فیق ۔

{مرسل : قیصر محمود، ماخوذ : فتاوی شیخ ابن باز رحمہ اللہ ، ص :174، مطبوعہ : دارالداعی }