صاف اور سچا دل/حديث نمبر :219

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :219

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :05/06/ شعبان 1433 ھ، م 26/25،جون 2012م

صاف اور سچا دل

عن عبد الله بن عمرو قال قيل لرسول الله صلى الله عليه و سلم أي الناس أفضل قال ( كل مخموم القلب صدوق اللسان ) . قالوا صدوق اللسان نعرفه . فما مخموم القلب ؟ قال ( هو التقي النقي . لا إثم فيه ولا بغي ولا غل ولا حسد )

( سنن ابن ماجه :4216، الزهد – مساوي الأخلاق :766، ص:267 )

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : سب سے افضل شخص کون ہے ؟ آپ نے جواب دیا : صاف دل والا اور زبان کا سچا ، صحابہ نے عرض کیا : زبان کے سچے کا مفہوم تو ہم جانتے ہیں لیکن صاف دل والے سے کیا مراد ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ پرہیز اور صاف دل جس میں نہ گناہ ہو نہ بغاوت ، نہ ہی کسی کا کینہ اور نہ ہی کسی کے بارے میں حسد ۔

{ سنن ابن ماجہ و مساوی الاخلاق } ۔

تشریح : ارشاد باری تعالی ہے : يَوْمَ لا يَنفَعُ مَالٌ وَلا بَنُونَ (88) إِلاَّ مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ (89) ( الشعراء ) ” جس دن کہ مال اور اولاد کچھ کام نہ آئے گی لیکن فائدے والا وہی شخص ہوگا جو بے عیب دل لے کر آئے گا ” ۔

“قلب سلیم” اور” بے عیب دل” سے مراد وہ دل ہے جو اللہ کے لئے مخلص ہو یعنی اس میں شرک ، ریا ، غیر اللہ کی محبت و خوف ، غیر اللہ سے رجاء و امید اور غیر اللہ پر توکل و بھروسہ نہ پایا جائے، نیز وہ اللہ کی مخلوق کے لئے بھی ناصح و مخلص ہو کہ اس میں کسی کا حسد و نفرت ، کسی سے دشمنی و بغض اور کسی کا کینہ و کپٹ نہ پایا جائے بلکہ وہ کوئی کام کرے تو اللہ تعالی کی رضا کے لئے کرے ، کسی کام سے رکے تو اللہ کے لئے رکے ، کسی سے محبت کرے تو اللہ تعالی کے لئے کرے ،کسی سے نفرت کرے تو اللہ تعالی کے لئے ہی نفرت کرے ، کسی کو کچھ دے تو اللہ تعالی کی رضا کے لئے ہی دے اور کسی سے کچھ روک لے وہ بھی اللہ تعالی کی ناراضگی کے خوف سے روک لے ، یہی وہ دل ہے جس کے حامل کو زیر بحث حدیث میں سب سے افضل انسان قرار دیا گیا ، اس کی سب سے واضح مثال وہ صحابی ہیں جن سے متعلق حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابھی ابھی تمہارے پاس ایک جنتی شخص آنے والا ہے ، چنانچہ ایک انصاری صحابی اس ہیئت میں تشریف بتے ہیں کہ وضو کا پانی ان کی داڑھی سے ٹپک رہا تھا اور اپنا چپل بائیں ہاتھ میں اٹھائے ہوئے تھے ، پھر دوسرے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات کہی اور پھر وہی صحابی اسی کیفیت سے تشریف لائے ، پھر تیسرے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی بات دہرائی اور اس دن بھی وہی صحابی بعینہ اسی کیفیت سے داخل ہوئے پھر [تیسرے دن ] جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر چلے گئے [ اور مجلس برخواست ہوئی ] تو عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما ان انصاری صحابی کے ساتھ ہو لئے اور عرض کیا کہ ابو جان سے میرا کچھ اختلاف ہوگیا ہے اور تین دن تک ان سے جدا رہنے کی میں نے قسم کھالی ہے لہذا اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس مدت تک اپنے یہاں رہنے کی مجھے اجازت دے دیں ، انصاری صحابی نے جوا ب دیا : ٹھیک ہے ، حضرت عبد اللہ کا بیان ہے کہ میں نے تین رات ان کے یہاں گزاری لیکن دیکھا کہ وہ رات میں کوئی عبادت نہیں کرتے البتہ رات میں جب بھی بیدار ہوتے یا کروٹ بدلتے تو اللہ کا ذکر کرتے اور اس کی بڑائی بیان کرتے ، پوری رات ان کی یہی کیفیت رہتی حتی کہ فجر کے لئے اٹھتے ، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں نے نہیں دیکھا کہ وہ کسی کا ذکر برائی سے کرتے ہوں ، جب تین دن پورے ہوگئے اور قریب تھا کہ میں ان کے عمل کو ئی اہمیت نہ دیتا تو میں نے کہا : اے اللہ کے بندے ! میرے اور میرے والد کے درمیان کوئی لڑائی اور جدائی کی بات نہیں تھی لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ تین دن لگاتار آپ کے بارے میں فرمارہے تھے : “ابھی تمہارے پاس ایک جنتی شخص آئے گا ” اور تینوں دن آپ ہی تشریف لائے ، تو میں نے ارادہ کیا کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کا عمل دیکھوں تا کہ میں بھی ویسا عمل کرسکوں ، لیکن میں دیکھ رہا ہوں آپ نے کوئی زیادہ عمل تو نہیں کیا ، پھر کیا وجہ ہے کہ آپ اس مقام کو پہنچے جس کی خبر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دے رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا : بس میرا عمل تو یہی ہے جو تم نے دیکھا ، پھر جب میں وہاں سے رخصت ہوا تو انہوں نے مجھے واپس بلایا اور کہا : ایک بات ضرور ہے کہ میرے دل میں نہ تو کسی مسلمان کے لئے دھوکہ کا جذبہ ہے اور نہ ہی اللہ تعالی کی دی ہوئی نعمت پر ان سے حسد کرتا ہوں ، حضرت عبد اللہ بن عمرو نے کہا : بس یہی چیز ہے جو آپ کو اس مقام تک پہنچائی ہے اور اسی کی ہمارے پاس طاقت نہیں ہے ۔

{ مسند احمد :3/166 ، شعب الایمان للبیہقی :9/809 ، عمل الیوم و اللیلۃ للنسائی :863 } ۔

یہی دل کی صفائی و سلامتی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہم سنت رہی ہے اور اسے ہی قیامت کے نجات کا سبب قرار دیا گیا ہےاور اگر یہ معدوم ہے تو دل انسان جس قدر میلا ہوگا اسی قدر رحمت الہی سے دور ہوگا اوراگر بالکل ہی میلا ہوگیا ہے کہ حسد وکینہ اور بغض و نفرت نے اس کے دل پر اڈا جمالیا ہے تو فاضل و مبارک اوقات میں بھی اس کے مغفرت کی امید نہیں ہے، جیسے پیر و جمعرات اور ماہ شعبان میں جب بندوں کے اعمال اللہ تعالی کے حضور پیش کئے جاتے ہیں تو مشرک و کافر کے ساتھ ایسے شخص کی بھی مغفرت نہیں ہوتی ، لہذا ضروری ہے کہ اپنی عاقبت پر حریص شخص اپنے دل کی صفائی و سلامتی کا خاص خیال رکھے اور اس کام سے دور رہے جو دو مسلمانوں کے دلوں میں بدظنی و خلش پیدا ہونے کا سبب بنتے ہیں ۔

فوائد :

۱- دل کی صفائی وستھرائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی اہم سنت ہے ۔

۲- اللہ تعالی کے یہاں جس تقوی کو معیار قرار دیا گیا ہے اس سے مراد دل کی صفائی ہے ۔

۳- حسد و بغض ، کینہ و نفرت ایسے گناہ ہیں جو مبارک ایام و لیال میں بھی معاف نہیں ہوتے ۔

ختم شدہ