علماءتصوف کو ایک نصیحت

بسم الله الرحمن الرحيم

علماءتصوف کو ایک نصیحت

از : شیخ ندیم اختر سلفی مدنی حفظہ اللہ

مراجعہ : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ

سوال:ہمارےیہاں بعض ایسے صوفی مشائخ حضرات ہیں جوقبروں پرقُبے(گنبد)اورمزارات بنانےکااہتمام کرتے ہیں،لوگ ان کےبارے میں نیکاورصاحب ِبرکت کااعتقاد رکھتےہیں۔اگریہ کوئی غیرشرعی امرہےتوان کےلئے آپ کی کیانصیحت ہے؟جبکہ لوگوں کی اکثریت انہیں اپناپیشوا اور راہنما مانتی ہے۔ہمیں (جواب سے) مستفید فرمائیں ،اللہ آپ میں برکت دے۔(آمین)

جواب:(سماحۃ الامام عبد العزیز بن عبداللہ بن بازـ رحمه الله)

صوفیت کےعلم بردارعلماءاوران کےعلاوہ دیگر اہلِ علم کو یہ نصیحت ہےکہ جواحکام قرآن وحدیث سےثابت ہیں اسےاپنائیں اور لوگوں کواس کی تعلیم دیں۔پچھلی قوموں کی شریعت کے مخالف جوبدعتیں ہیں ان کی پیرویسےبچیں،دین مشائخ اور دیگر لوگوں کی تقلید کا نام نہیں ہے ،بلکہ دین تووہی ہےجوکتاب الہی ،سنت رسول اور علماء صحابہ وتابعین کےاجماع سےماخوذ(لیا گیا)ہو،دین اسی طرح لیا جائےگانہ کہ زید اور عمرو کی تقلید کرکے۔

سنتِ صحیحہ میں اس بات کی دلیل موجود ہےکہ قبروں پر عمارت تعمیر کرنا جائز ہوگا،نہ ہی ان میں مساجد تعمیر کرناجائز ہوگا،اور نہ ہی ان پر قُبےاور کوئی بھی عمارت کھڑی کرناجائزہوگی۔یہ تمام چیزیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے صراحۃً حرام ہیں ۔چنانچہ بخاری اورمسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکابیان ہےکہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نےفرمایا”لعن الله اليهود والنصارى؛اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد”

(کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہویہودونصاریٰ پرجنہوں نےانبیاء(عليهم السلام)کی قبروں کومسجدیں بنالیا) آپ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ آپصلى الله عليه وسلم یہ فرماکر امت یہود ونصاری کے کئے سے متنبہ کررہے تھے۔(بخاری:436،مسلم:529)

اور بخاری ومسلم میں ہےکہ حضرت ام سلمہ اور ام حبیبہ نے نبیصلى الله عليه وسلم سےایک کلیسا جسے انہوں نےحبشہ کی سر زمین میں دیکھاتھااور اس میں مورتیوں (تصویروں)کا ذکر کیا ۔آپصلى الله عليه وسلم نےفرمایا: “ان کایہ قاعدہ تھاکہ اگران میں کوئی نیکوکارشخص مرجاتاتووہ لوگ اس کی قبر پرمسجد بناتےاور اس میں یہی مورتیاں (تصویریں)بنادیتے،یہ لوگ اللہ کےدرگاہ میں تمام مخلوق سےبُرےہیں” ( بخاری:427،مسلم:528)

تو اللہ کےرسولصلى الله عليه وسلم نےیہ خبردی ہےکہ جولوگ قبروں پرمسجدیں تعمیر کرتے ہیں وہ مخلوق میں سب سےبدتر لوگ ہیں ،اس طرح وہ لوگ بھی بد ترین قسم کے ہیں جنہوں نے ان مساجد میں تصویریں بنا رکھی ہیں ، کیونکہ اس میں شرک کی طرف دعوت ہے،اسلئےکہ عامة الناس جب قبروں پرمساجد اور قُبےدیکھیں گےتو ان میں مدفون حضرات کی تعظیم کریں گے،ان سے مددمانگیں گے، انہیں نذرونیاز پیش کریں گے،اللہ کو چھوڑکر ان سےدعائیں مانگیں گے،اور ان سے مدد طلب کریں گےاور یہی تو شرک اکبرہے۔

صحیح مسلم میں مروی حضرت جندب بن عبداللہ البجلیt کی حدیث میں ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نےمجھےاپنا خلیلبنایاہےجیساکہ اس نے ابراہیمuکوخلیل بنایاتھا، اگر میں اپنی امت میں سےکسی کو خلیل بناتاتوابوبکرtکوبناتا۔سنو!تم سےپہلے کےلوگوں نےاپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کومسجدیں بنالیاتھا،خبردار!تم قبروں کو مسجدنہ بنانامیں تم کو اس بات سے منع کرتاہوں”(مسلم:532،کتاب المساجد)۔

حدیث حضرت ابوبکرالصدیقtکی فضیلت پر دلیل ہےکہ وہ صحابہ میں سب سےافضل اور ان میں سب سے بہترہیں ۔اور اگرنبیصلى الله عليه وسلم کےلئےروا اورمباح ہوتاکہ کسی کواپنا خلیل بنائیں توحضرت ابوبکرtکو بناتے،لیکن اللہ عزوجل نےآپصلى الله عليه وسلم کواس سےمنع فرمادیاتاکہ آپصلى الله عليه وسلم کی محبت آپصلى الله عليه وسلم کےرب کےخالص رہے اسلئےکہ خُلّت محبت کاسب سے اعلیٰ مقام ہے۔

یہ حدیث قبروں پرعمارت تعمیر کرنےاور ان پر مسجدیں بنانےکی حرمت پردلالت کرتی ہےاورایسا کرنےوالوں کی تین وجوہ سےاس میں مذمت کی گئی ہے:

(1)آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاایساکرنےوالےکی مذمت کرنا۔

(2)آپصلى الله عليه وسلم کافرمان:”پس قبروں کومسجدیں نہ بناؤ”۔

(3)آپصلى الله عليه وسلم کایہ فرمان:”پس میں تم کواس سےمنع کرتاہوں”۔

چنانچہ آپصلى الله عليه وسلم نے(مذکورہ)تین جہتوں سےقبروں پرعمارت بنوانےسےمتنبہ کیاہے،جیساکہ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: “جولوگ تم سےپہلےتھےوہ اپنےانبیاء اورصالحین کی قبروں کومسجدیں بناتے تھے”

پھرآپ صلى الله عليه وسلم نےفرمایا:”خبردار!تم لوگ قبروں کومسجد نہ بنانا”یعنی ان کی تقلید نہ کرنامیں تم کو اس سے روکتا ہوں۔اسمیں پورے طور سے قبروں پر عمارت کھڑی کرنے اور ان پر مسجدیں بنانےپرتنبیہ ہے ۔

اہلِ علم نےاس ممانعت کی علت اورحکمت یہ بتلائی ہےکہ یہ کام شرک اکبرمیں مبتلا ہونے اوراہلِ قبور کی عبادت ، اللہ کوچھوڑکر انہیں پکارنے،ان کےلئےقربانی اورنذرونیازپیش کرنے،ان سےاستغاثہ اورمدد طلب کرنےکا وسیلہ اور سبب ہے۔جیساکہ آج بہت سارےممالک سوڈان،مصر،شام،عراق (ہندوپاک اوربنگلہ دیش) میں ہورہاہے۔

بہت سارےممالک میں آپ دیکھتے ہیں کہ ایک عامی اورجاہل شخص اپنےیہاں کسی مشہور صاحبِ قبر کے پاس آکر کھڑاہوتاہےپھران سےمددمانگتااورفریاد کرتاہےجیساکہ مصرمیں سیداحمدبدوی،حسین، سیدہ نفیسہ،زینب اوران کےعلاوہ دیگرلوگوں کی قبروں کےپاس ہوتاہے۔([1])

اورجیساکہ آپ لوگوں کےیہاں سوڈان میں بہت ساری قبروں کےپاس ہوتاہےاسی طرح دوسرےملکوں میں ہوتاہے۔جس طرح کہ جاہل حاجی مدینہ میں آپصلى الله عليه وسلم کی قبر کےپاس اوربقیع غرقد(جنت البقیع)میں قبروں کے پاس کرتےہیں۔اور مکہ میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکی قبراور دوسری قبروں کےپاس کرتےہیں۔یہ سب کام جاہل لوگ کرتےہیں چنانچہ وہ وضاحت اور اہلِ علم کی توجہ کےمحتاج ہیں۔

لہذا ہراہلِ علم – چاہے تصوف کی طرف منسوب ہویا دوسرے لوگ – ان پر واجب ہےکہ وہ اللہ سےڈریں ،اللہ کےبندوں کے ساتھ خیر خواہی کریں،انہیں دین کی باتیں بتائیں ،قبروں پر عمارت کھڑی کرنے،مسجدیں بنوانے،قُبےتعمیر کرنےاور ان پرکسی بھی قسم کی عمارت بنوانے سےمتنبہ کریں ،مُردوں کوپکارنےاور ان سےفریادکرنےپرانہیں روکیں ۔ اسلئےکہ دعاایک ایسی عبادت ہےجوصرف اللہ کےلئےہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتےہیں:)فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَداً((الجن18)(پس اللہ کےساتھ کسی اور کو نہ پکارو) نیز ارشادہے:)وَلاَ تَدْعُ مِن دُونِ اللّهِ مَا لاَ يَنفَعُكَ وَلاَ يَضُرُّكَ فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذاً مِّنَ الظَّالِمِينَ( (يونس106)

(اور اللہ کو چھوڑکر ایسی چیز کی عبادت مت کرناجوتجھ کونہ کوئی نفع پہنچاسکےاور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے،پھراگرایساکیاتوتم ظالموں میں سےہوجاؤگے)یعنی مشرکوں میں سےہوجاؤگے۔

اور نبیصلى الله عليه وسلم کاارشادہے:”الدعاء هو العبادة”(احمد:17919،ابوداؤد:1479)(دعاہی عبادت ہے)

اور نبیصلى الله عليه وسلم فرماتےہیں:”إذا سألت فاسأل الله وإذا استعنت فاستعن بالله” (احمد:2758،ترمذی:2516)

(جب مانگوتواللہ سے مانگواورجب مددچاہوتواللہ سےچاہو)

نیز مرنےوالےکا لوگوں سے متعلقہ عمل کا سلسلہ دنیاسےمنقطع ہوگیا،اب تو وہ دعا،استغفاراور رحم وکرم کامحتاج ہےنہ یہ کہ (حاجت روائی کے لئے)اللہ کوچھوڑکرخوداس(میت)کوپکاراجائے۔جیساکہ نبیصلى الله عليه وسلم کاارشادہے:

“إذا مات ابن آدم انقطع عمله إلا من ثلاث:صدقة جارية،أو علم ينتفع به،أو ولد صالح يدعو له”

“جب آدمی مرجاتاہےتواس کاعمل موقوف ہوجاتاہےمگرتین چیزوں کاثواب جاری رہتاہے:ایک صدقہ جاریہ کا،دوسرےعلم کاجس سےلوگ فائدہ اٹھائیں، تیسرےنیک اولاد جواس کےلئےدعاکرے” (مسلم:1631)۔

(توجب وہ خود دوسروں کامحتاج ہےتوحاجت روائی اور مشکل کشائی کےلئے) اللہ کوچھوڑکراُسےکیسےپکاراجائے؟

اسی طرح بت،درخت،پتھر،شمس وقمراور ستارےانہیں اللہ کےعلاوہ نہ پکاراجائےگااور نہ ہی ان سےفریاد کی جائےگی۔بعینہ یہی حال قبر والوں کاہے،گرچہ وہ انبیاءہوں اولیا٫ ہوں ،فرشتےاورجن کیوں ہوں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر انہیں پکارا نہ جائے گا ۔

اللہ تعالیٰ کافرمان ہے: )وَلاَ يَأْمُرَكُمْ أَن تَتَّخِذُواْ الْمَلاَئِكَةَ وَالنِّبِيِّيْنَ أَرْبَاباً أَيَأْمُرُكُم بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ( (آل عمران80)(اور یہ نہیں(ہوسکتا)کہ وہ تمہیں فرشتوں اور نبیوں کورب بنالینےکاحکم کرے،کیا وہ تمہارےمسلمان ہونےکےبعد بھی تمھیں کفرکاحکم دےگا؟)

تو گویاکہ نبیوں اور فرشتوں کو پکارنا،ان سےفریاد کرناانہیں رب بنا لینا اور کفرہے،اور اللہ تعالیٰ کفر کا حکم نہیں دیتا۔

صحیح مسلم میں حضرت جابر tکی حدیث میں ہے کہ اللہ کےرسولصلى الله عليه وسلم نے قبر کوپکا کرنے،اس پر بیٹھنے اور اس پر عمارت کھڑی کرنےسے منع فرمایا۔(مسلم:970)

اورایسا اس وجہ سے ہے کہ یہ شرک تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔پس اس پر عمارت کھڑی کرنا،اسے پختہ کرنا،اس پرچادریں چڑھانا اور گنبدیں بنانایہ سارےکام تعظیمِ قبور ،اسمیں غلو اور اہلِ قُبور سے دعاکرنےکا ایک وسیلہ ہے۔

اور رہا قبروں پر بیٹھناتو اسمیں اسکی بےحُرمتی ہے،لہذا نہ اس پر بیٹھاجائے،اور نہ بول وبراز کیا جائے،اورنہ اس سےٹیک لگایاجائے،اور نہ ہی اسے روندا جائے،چنانچہ یہ ایک مسلم کےاحترام کی وجہ سےمنع ہے۔

مسلمان چاہے زندہ ہو یامُردہ قابلِ احترام ہے۔اس کی قبر کو پیروں سے روندنا،اس کی ہڈی توڑنا، اس کی قبر پر بیٹھنا، پیشاب کرنا، اس پر کوڑا کرکٹ ڈالنا،یہ سب ناجائز اور ممنوع کام ہیں ۔لہذا ایک وفات شدہ مسلم شخص کی نہ اِہانت کی جائےاور نہ اس کےحق میں غلو کرتے ہوئےاللہ کے سوا اسے پکارا جائے۔

شریعت ایک درمیانی راہ لے کر آئی ہے۔ایک طرف اس نےاحترامِ قبور،قبر والوں کےلئے دعاءمغفرت ورحمت کا حکم دیاہے،تو دوسری طرف ان کی قبروں پر کوڑا کرکٹ ڈال کر ،قضائے حاجت کرکے اور ان پر بیٹھ کر انہیں ایذا رسانیوں سےبھی منع کیا ہے۔اور اسی سلسلہ میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کایہ ارشاد اسی معنی میں ہےکہ”قبروں پر بیٹھو نہیں اور نہ ان کی طرف نماز پڑھو”۔

(لہذا)نہ قبروں کوقبلہ بناناجائزہےاور نہ اس پربیٹھنادرست ہے۔چنانچہ عظیم اور کامل شریعت(اسلامیہ ) نے دونوں امر کےدرمیان جمع کیا ہے۔جہاں اس نےاہلِ قبورکی شان میں غلو(حد سےزیادہ ان کی تعریف) کرنے ،اللہ کے علاوہ انہیں پکارنے،ان سےاستغاثہ اور فریاد کرنے،ان کےلئےنذرانےپیش کرنے،اور اس طرح کےدیگر امور کوحرام قرار دیاہے،جوکہ شرک اکبرہے۔تو اس نےاس بات سےبھی روکاہےکہ ان کی اِہانت کی جائے،انہیں تکلیف دی جائے،ان کی قبروں پر بیٹھاجائے،اسے رونداجائے،اس کی طرف (پیٹھ کرکے)ٹیک لگایاجائے،اور اس پرگندگی ڈالی جائے،یہ ساری چیزیں منع ہیں ۔

اس طرح ایک مومن اورحق کامتلاشی یہ جان لیتاہےکہ شریعت وسطیت اورراہِ اعتدال لے کر آئی ہے نہ کہ شرک اور ایذا رسانی لے کر۔تو پیغمبر(علیہ الصلاۃ والسلام)اور نیک آدمی کےلئےمغفرت کی دعاکی جائے،اور زیارت کےوقت ان کو سلام کیا جائے،البتہ یہ کہ اللہ کو چھوڑکر انہیں پکاراجائےایسا جائز نہ ہوگا۔

چنانچہ یاسیدی! المددالمدد،یامیری مددکیجئے، مجھےشفا دیجئے، فلاں کام میں میری مدد فرمائیے، نہ کہاجائے، (بلکہ)یہ سب چیزیں اللہ سےطلب کی جائیں گی،اور نہ ہی ان کی قبروں پر کوڑا ڈالا جائےگا،نہ اسے روندا جائے گا۔

اورجہاں تک زندہ شخص کی بات ہےتو حسی اسباب میں سےجو اس کےدائرہ قدرت میں ہے- اور جوشرعاًجائز ہے-ان میں اس سےمددلینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ان میں عمل کی صلاحیت ہے ۔جیسا کہ موسیٰ(علیہ السلام) کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ کاقول ہے: )فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِن شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ( (القصص15)(اس کی قو م والےنےاس کےخلاف جواس کےدشمنوں میں سےتھااس(موسیٰ) سےفریاد کی )

کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام)زندہ تھےوہی ہیں جن سے اس آیت میں فریاد طلب کی گئی ہے اسلئےان سےایک اسرائیلی شخص (جوان کےقبیلے کا تھا)نےاپنےایک قبطی دشمن کے خلاف مددمانگی۔اوراسی طرح انسان اپنےبھائیوں اور رشتہ داروں کےساتھ ان کےفارم اور کھیتوں میں، گھروں اور گاڑیوں کی اصلاح میں اور ضرورت کی دیگر چیزوں میں اسبابِ حسیہ کےذریعہ حسب استطاعت ایک دوسرےکاتعاون کریں، اسمیں کوئی حرج نہیں۔اسی طرح ٹلیفون ،خط وکتابت اور ٹیلی گرام کےذریعہ ،یہ سب حسی تعاون ہیں ،انسان کےاختیار میں ہےتو ان میں مددمانگنے میں کوئی حرج نہیں ،لیکن جو امورعبادت سےمتعلق ہو،تو اسمیں نہیں۔ چنانچہ کسی زندہ یامُردہ شخص سےنہیں کہاجائے گامیرے مریض کو شفا دیجئے، میرےغائب شدہ سامان لوٹادیجئے،یہ اعتقاد رکھتے ہوئے کہ خفیہ طور پر اُس کا اسمیں کچھ تصرف ہے۔اورنہ یہ کہاجائےگا کہ دشمنوں کےخلاف ہماری مددکیجئےیعنی اپنی خفیہ طاقت سے۔

اور جہاں تک کسی زندہ شخص کی بات ہےتوجوحاضر ہواور اس پرقادربھی ہوتواسبابِ حسیہ جیسےہتھیار اورقرض وغیرہ کے ذریعہ اس سےمددمانگنےمیں کوئی حرج نہیں۔اسی طرح کسی ڈاکٹر کے پاس جاکر علاج کرانے میں کوئی حرج نہیں ،لیکن اس سےیہ کہے کہ مجھے شفاعطاکیجئےیہ اعتقاد رکھتےہوئے کہ اس کےپاس کچھ اختیارات ہیں تو یہ کفر ہے۔جیساکہ صوفیوں اور ان کےعلاوہ دیگرلوگوں کےیہاں مشہور ہے،اسلئےکہ کائنات میں تصرف اور اختیار انسان کےدائرہ قدرت سے باہر ہے تصرف کی صلاحیت اس کےپاس صرف حسی امور میں ہے۔ایک ڈاکٹر صرف حسی اُمورمیں ہی تصرف اور تدبیر کر سکتاہے جیسے دوا( وغیرہ۔)

اُسی طرح ایک زندہ اور قادر شخص حسی امور میں تصرف اور تدبیر کرسکتاہے۔اپنےہاتھ کے ذریعہ آپ کی مدد کرسکتاہے،آپ کا ساتھ دے سکتاہے،بطورِ قرض آپ کومال دےسکتاہے، گھر بنانے میں آپ کی مدد کرسکتاہے،اپنی گاڑی کےفالتو پُرزےآپ کودےسکتاہے،یا دوسروں کےپاس سفارش کرکےآپ کاسہارابن سکتاہے،یہ حسی اُمور ہیں ان میں کوئی حرج نہیں ،یہ چیزیں اور اس جیسی دوسری چیزیں مُردوں کی عبادت اور اُن سےفریاد طلبی میں داخل نہیں ہیں ۔

بہت سارے شرک کےپرچارک(اس کی طرف بلانےوالے)ایسی ہی باتوں کے ذریعہ (عامۃ الناس پر)شبہ ڈال دیتے ہیں (حالانکہ)یہ بالکل صاف اور واضح ہے،جوسب سےبڑاجاہل ہوگااسی پریہ سب چیزیں مُشتبہ ہوں گی،(ورنہ)زندوں سےمدد لینامعروف شرطوں کےساتھ جائزہے۔اورمُردوں سے (مدد)مانگنا،ان سےفریادچاہنا،ان کےلئےنذرونیازپیش کرناممنوع ہے،یہ بات اہلِ علم جانتےہیں اورباجماع علماءیہ شرک اکبرہے۔اس(مسئلہ)میں حضرات صحابہ اور بعد کےاہلِ علم وایمان اور اہلِ بصیرت کےدرمیان کوئی بھی اختلاف نہیں تھا۔

اسی طرح قبروں پر عمارت کھڑی کر نا،مسجدیں اور قُبےتعمیر کرنا مذموماورناپسندیدہ کام ہے،اہلِ علم اس سے واقف ہیں، شریعت نے اس سےمنع کیاہے۔لہذا ان سب چیزوں کاعلماء کرام پرمُشتبہ ہوناجائز نہیں۔