غیبت کب جائز ہے/حديث نمبر :202

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :202

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 29 – 30 ربيع أول 1433ھ، 21 – 22 فبراير 2012م

غیبت کب جائز ہے

حديث :

عن عَائِشَةَ رضي الله عنها قالت : اسْتَأْذَنَ رجل عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ : ائْذَنُوا لَهُ فَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ ، أَوْ بئس أَخُو الْعَشِيرَةِ فَلَمَّا دَخَلَ أَلاَنَ لَهُ الْكَلاَمَ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ قُلْتَ مَا قُلْتَ ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ فِي الْقَوْلِ فَقَالَ أَيْ عَائِشَةُ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللهِ مَنْ تَرَكَهُ – أَوْ وَدَعَهُ- النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ.

{صحیح البخاری :6054 الادب ، صحیح مسلم : 5591 البر}

ترجمہ :

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا : اسے اجازت دے دو ، یہ اپنے خاندان کا برا آدمی ہے ، پھر جب اندر آیا تو آپ نے اسکے ساتھ بہت نرمی سے باتیں کیں {جب وہ چلا گیا تو }میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اسکے بارے میں یہ سب کچھ کہا اور پھر اسکے ساتھ اسقدر نرم لہجے میں باتیں کی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سب سے بر ا وہ آدمی ہے جسکے شر سے بچنے کیلئے لوگ اسے چھوڑ دیں ۔ {صحیح بخاری ، صحیح مسلم }

تشریح :

غیبت نہایت ہی گھناو نا فعل ، کبیرہ گناہ اور رب کی ناراضگی کا سبب ہے ، جیسا کہ گزشتہ ہفتہ مذکور حدیث سے واضح ہے ، لیکن کچھ موقعے ایسے آتے ہیں کہ غیبت کرنا ہی بہتر بلکہ بسا اوقات ضروری ہوجاتا ہے ،کیونکہ اسمیں اللہ کی مخلوق کی مصلحت اور معاشرے کی اصلاح پوشیدہ ہوتی ہے ، لہذا اسلام نے کچھ مخصوص موقعوں پر غیبت کی اجازت دی ہے ، قرآن و حدیث میں گہری نظر کے بعد علماء نے درج ذیل موقعوں پر غیبت کو جائز کہا ہے ۔

{1} ظلم کی شکایت : ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے اور اپنے پڑوسی کی بد سلوکی کی شکایت کرتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاو اور اپنا سامان باہر نکال کر رکھ دو ۔ اب جو شخص بھی ادھر سے گزرتا اور سامان باہر رکھنے کی وجہ پوچھتا تو وہ شخص اپنےپڑوسی کی شکایت کرتا لہذا ہر سننے والا کہتا : اس پر اللہ کی لعنت ہو ، اللہ اسے رسوا کرے الحدیث {الادب المفرد بروایت ابوہریرہ} اس شخص نے اپنے پڑوسی کے ظلم کی شکایت کی جو اسکی غیبت ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بر قرارکھا اور لوگوں کو بھی اسے برا بھلا کہنے سے منع نہیں فرمایا ۔

{2} فتوی کی غرض سے : حضرت ابو سفیان کی بیوی حضرت ھند بنت عتبہ رضی اللہ عنہما خدمت نبوی میں حاضر ہو کر کہتی ہیں : ابو سفیان بخیل آدمی ہیں ، وہ مجھے میرے اور میرے بچوں کا پورا خرچہ نہیں دیتے تو کیا میں ان کے علم کے بغیر انکے مال سے اپنی ضرورت کے مطابق لے سکتی ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے انھیں اسکی اجازت دے دی{صحیح بخاری ومسلم بروایت عائشہ} اس حدیث میں ہند رضی اللہ عنہا نے ابو سفیان کی غیبت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع نہیں کیا ۔ لہذا معلوم ہوا کہ فتوی کی غرض سے کسی کی غیبت جائز ہے ۔

{3}برائی دور کر نے کیلئے : خلاف شرع کاموں کو روکنے اور برائی کے مرتکب کو راہ راست پر لانے کیلئے کسی ایسے شخص سے کسی کی برائی کی جاسکتی ہے جو برائی کے روکنے کی طاقت رکھتا ہو یا برائی روکنے پر اسکی مدد کرسکتا ہو کیونکہ برائی سے روکنا فرض ہے اور اسکو نہ روکنے سے بڑے فساد کا خطرہ ہے ، لہذا بڑے نقصان سے بچنے کیلئے غیبت کی اجازت ہے بلکہ بسا اوقات واجب ہے ۔

{4}مسلمانوں کی خیر خواہی اور شروروفتن والوں سے متنبہ کرنے کیلئے : صحابہ کرام منافقوں اور شر پسند لوگوں کی شکایت اور انکی مکاریوں کی اطلاع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کر تے تھے ۔ اسی حکم میں حدیث کے راویوں کے عیوب و کمزوریاں ظاہر کرنا بھی ہے ، صراط مستقیم ومنہج قویم سے ہٹے ہوئے خطباء و مولفین کی غلطیوں کا بیان بھی اسی میں داخل ہے ، کسی بدعتی اور بظاہر صلاح و تقوی کا لباس اوڑھے ہوئے فقیہ وعالم سے متنبہ کرنا بھی اسی حکم میں آتا ہے اور کسی افسر اور والی جو ولایت کا اہل نہ ہو یا اپنی ولایت میں امانت داری سے کام نہیں کرتا اسکی شکایت حاکم اعلی سے کرنا بھی اسی حکم میں داخل ہے ۔

{5}مشورہ کے موقعہ پر : حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ ابو جہم اور معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے ، اب آپ ہمیں کس کے پیغام کو قبول کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ؟ رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : معاویہ تو مفلس ہیں انکے پاس مال نہیں ہےاور ابوجہم {بڑے سخت مزاج کے ہیں } وہ اپنی لاٹھی اپنے کندھے سے نہیں اتار تے {عورتوں کو بہت مارتے ہیں } البتہ تم اسامہ بن زید سے شادی کر لو {بخاری ومسلم } اس حدیث سے معلوم ہو اکہ مشورہ کا تقاضا ہے کہ خیر خواہی کی جائے اور صحیح مشورہ دیاجائے خواہ اسمیں کسی غیبت ہی کرنا پڑے ۔

{6} فاسق و فاجر وبدعتی کی غیبت : جیسے کوئی شخص کھلم کھلا اپنے فسق وبدعت کا ارتکاب کرنے والا ہے کوئی علانیہ شراب پیتا ہے ، لوگوں کے مال لے لیتا ہے تو واپس نہیں کرتا ،رشوت چنگی ظلما وصول کرتا ہے وغیرہ ۔ نبی صلی اللہ کا ارشاد ہے : لَىُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ {سنن ابو داود ، ابن ماجہ بروایت شرید بن سوید } صاحب مال کا اداکرنے میں ٹال مٹول کرنا اسکی عزت اور اس پر سزا کو حلال کردیتا ہے ،زیر بحث حدیث میں بھی اسی طرف اشارہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اجڈ اور فاسق کی برائی بیان کی لیکن اس کے سامنے خندہ پیشانی سے پیش آئے، کیونکہ اسکی قوم کو اسلام پر راغب کرنا تھا ۔

{7} لقب اور معروف نام : جب انسان میں کوئی عیب ہو اور اسی سے مشہور ہوجائے جیسے لمبا، ناٹا ،چندلا اور لنگڑا وغیرہ تو اسے اس نام سے یاد کرنے یا اسکی معرفت کرانے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ سلف میں ایسے بہت سے لوگ ملتے ہیں تاہم تو ہین و تنقیص کی نیت سے ان الفاظ کا استعمال جائز نہ ہوگا ۔

یہ وہ اسباب ہیں جنکی وجہ سے کسی کی غیبت کی جاسکتی ہے اور ان پر تقریبا علماء کا اتفاق ہے ، البتہ اس بارے میں درج ذیل باتوں کا ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے :

اولا: اس غیبت میں نیت درست اور صالح ہو اس رخصت سے فائدہ اٹھا کر لوگوں کی تنقیص مقصود نہ ہو ۔

ثانیا: – غیبت میں جس عیب کو ظاہر کرنے کی ضرورت درپیش ہے اسے بنیاد بناکر اسکے دوسرے عیبوں کو ظاہر نہ کیا جائے ۔

ثالثا: – اس غیبت سے کسی بڑے فساد اور بگاڑ کا دروازہ نہ کھل جائے ۔