غیبت کی مجلس/حديث نمبر :203

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :203

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 05 – 06 ربيع الثاني 1433ھ، 27 – 28 فبراير 2012م

غیبت کی مجلس

حديث :

عن أسماء بنت يزيد رضي الله عنها،عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : من ذب عن لحم أخيه بالغيبة كان حقا على الله أن يعتقه من النار. [مسند احمد 6/461، الطبراني الكبير 24/175].

ترجمہ :

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے گوشت کا دفاع کریگا[ اسکی غیبت کا جواب دیگا] تو اللہ تعالی پر یہ حق ہے کہ اسے جہنم سے آزاد کردے۔ مسند احمد وطبرانی کبیر۔

تشریح :

جس طرح کسی مسلمان کی غیبت کرنا حرام ہے اسی طرح اس مجلس میں حاضر ہونا بھی حرام ہے جس میں غیبت کا دور چل رہا ہو، کیو نکہ غیبت کرنے طرح غیبت کا سننا بھی حرام ہے، بلکہ ہر ایسی مجلس کاجس میں احکام الہیہ کو پامال کیا جارہا ہو یا انکا مذاق اڑایا جارہا ہو ں اس میں حاضری کا یہی حکم ہے ،چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے : {وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذاً مِثْلُهُمْ} الآية.(140) النساء

“اور اللہ تعالی تمھارے پاس اپنی کتاب میں یہ حکم اتار چکا ہے کہ تم جب کسی مجلس والوں کو اللہ تعالی کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے اور مذاق اڑاتے ہوئے سنو تو اس مجمع میں انکے ساتھ نہ بیٹھو ، جب تک کہ اس کے علاوہ اور باتیں نہ کرنے لگیں،[ورنہ] تم بھی اس وقت انہیں جیسے ہو” ۔

ایک اور جگہ مومنین کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے: {وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلامٌ عَلَيْكُمْ لا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ} القصص آية (55).

“اور جب بیہودہ بات کان میں پڑتی ہے تو اس سے کنارہ کر لیتے ہیں اور کہہ دےتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لئے اور تمہارے عمل تمہارے لئے، تم پر سلام ہوہم جاہلوں سے الجھنا نہیں چاہتے”۔

شیخین امت حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما سے متعلق حضرت انس بن مالک رضي الله عنهکی وہ حدیث گزر چکی ہے جس میں یہ مذکور ہے کہ غیبت کسی ایک نے کی تھی اور اللہ تعالی کے رسول نے گنہگار دونوں کو ٹھہرایا تھا۔

لہذا اگرہم کسی ایسی مجلس میں حاضر ہوں جس میں کسی مسلمان کی ناجائز غیبت ہورہی ہو تو اس بارے میں ہمارا موقف درج ذیل ہونا چاہئے۔

اولا – ہمیں اس سے روکنا اور منع کرنا چاہئے ، نبی کریم – صلى الله عليه وسلم – کی حدیثوں میں ہمیں یہی سبق دیا گیا ہے، چنانچہ ایک بار نبی کریم – صلى الله عليه وسلم – کے پاس کسی شخص کا ذکر ہوا تو انکے بارے میں لوگوں نے کہاکہ [وہ بہت کاہل ہے] جب تک کھانا نہ پیش کیا جائے کھاتا نہیں اور جب تک اس کی سواری تیار نہ کی جائے سوار نہیں ہوتا، یہ سن کر آپ– صلى الله عليه وسلم – نے فرمایا : تم لوگوں نے اس کی غیبت کی ، صحابہ نے جواب اے اللہ کے رسول ہم نے تو وہی بات کہی ہے جو اس میں پائی جاتی ہے، آپ – صلى الله عليه وسلم – نے فرمایا : غیبت ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ تو اپنے بھائی کا وہ عیب بیان کرے جو اس میں ہے- صحيح الترغيب3/78 عن ابن عمرو نقلا عن الأصفهاني .

ثانیا- ہم اسی مجلس میں اس شخص کا دفاع کریں جسکی غیبت کی جا رہی ہے اور یہ بہت بڑے اجر کی بات ہو گی، جیسا کی زیر بحث حدیث سے واضح ہےکہ کسی مسلمان بھائی کی عدم موجودگی میں اسکی طرف سے دفاع ایک مسلمان پر واجب ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بڑے اجر کا سبب ہے۔

ایک اور حدیث میں ارشاد نبوی ہے: جو کوئی کسی مسلمان شخص کواس جگہ رسواکرے جہاں اس کی عزت پامال کی جا رہی ہو اور اسے بے عزت کیا جارہا ہو تو اللہ تعالی اسے ایسی جگہ رسوا کریگا جہاں اسے اپنی نصرت محبوب ہوگی اور جو کوئی کسی مسلمان کی مدد ایسی جگہ کریگاجہاں اسکی عزت پامال کی جارہی ہوگی اور اسکے تقدس کو تار تار کیا جارہا ہوگا تو اللہ تعالی بھی اسکی مدد ایسی جگہ کریگا جہاں وہ مدد کا حاجت مند ہو گا۔ سنن ابو داود:4884 الأدب مسند احمد4/30 عن جابر بن عبد الله وأبي طلحة ۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود –رضي الله عنه – نے فرمایا: جس کے پاس کسی مسلمان کی غیبت کی گئی اور اس نے اسکی طرف سے دفاع کیا تو اللہ تعالی اسےدنیا اور آخرت دونوں جگہ اسکا بہتر بدلا دیگا، اور جسکے پاس کسی مسلمان کی غیبت کی گئی اور اس نے اسکی طرف سے دفاع نہیں کیا تو اللہ تعالی بھی دنیا وآخرت میں اسکی مدد نہیں کریگا ، اور کوئی شخص کسی مسلمان کی غیبت کرکے جو لقمہ کھا رہا ہے اس سے برا لقمہ کسی نے کھایا نہ ہوگا۔ الأدب المفرد : 734 .

ثالثا- اس کی تعریف کرے : اگر ہم کسی ایسی مجلس میں موجود ہیں جس میں بلا کسی شرعی عذر کے کسی مسلمان بھائی کی غیبت ہو رہی ہے تو اسکی طرف سے دفاع کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس مجلس میں ہم اس کی اس خوبی کا ذکر یں جسے ہم جانتے ہوں ، اور واضح رہے کہ کوئی بھی ایسا شخص نہ ہوگا جس میں کوئی خوبی نہ ہوگی بلکہ یہی کیا کم ہے کہ وہ مسلمان ہے، نبی کریم– صلى الله عليه وسلم – اور آپ کے تربیت یافتہ صحابہ کا یہی عمل رہا ہے، چنانچہ حضرت عتبان بن مالک – رضي الله عنه – سے مروی ایک طویل حدیث میں ہےکہ نبی – صلى الله عليه وسلم – نماز پڑهانے کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا : مالک بن دخشم کہاں ہیں ؟ ایک آدمی نے کہا : وہ منافق ہے ، اللہ اور اسکے رسول سے محبت نہیں کرتا ، یہ سن کر آپ – صلى الله عليه وسلم – نے فرمایا : یہ بات مت کہو کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس نے “لا الہ الا اللہ” کہا ہے ، اس سے اس کا ارادہ اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے ، اور یقینا ً اللہ تعالی نے اس شخص پر جہنم حرام کردی ہے جس نے اللہ کی رضا کی خاطر “لا الہ الا اللہ” کہا ہو۔ صحیح البخاري:425 الصلاة، مسلم: 657 المساجد۔

امام ابن سیرین کے بارے میں مشہور ہے کہ اگر انکے پاس کوئی کسی کی برائی بیان کرتا تو اس شخص کی خوبیاں بیان کرنا شروع کر دیتے۔ السیر4/615۔

رابعا: اگر ہم یہ نہ کرسکیں یا ہماری بات نہیں سنی جاتی تو ہم وہاں سے چلے جائیں ، جیسا کہ اللہ تعالی نے ہمیں حکم دیا ہے۔

{وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ} (68)۔ الانعام

“اور جب ان لوگوں کو دیکھیں جو ہماری آیات میں عیب جوئی کر رہے ہیں تو ان لوگوں سے کناوہ کش ہوجائیں یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں اور اگر آپ کو شیطان بھلا دے تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھیں”۔