قدرت کے ساتھ مذاق/حديث نمبر :225

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :225

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :23/24/ شوال 1433 ھ، م 11/10،ستمبر 2012م

قدرت کے ساتھ مذاق

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ غزوہ تبوک کے موقعہ پر کسی مجلس میں ایک شخص نے [ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے حفاظ صحابہ رضوان اللہ علیہم سے متعلق ] کہا : ہم نے اپنے ان قاریوں اور حافظوں سے بڑا پیٹو ، ان سے بڑا جھوٹا اور ان سے زیادہ بزدل کسی اور کو نہیں پایا ، اس مجلس میں موجود ایک صحابی نے کہا تو جھوٹ بول رہا ہے ، بلکہ تو منافق ہے ،میں اس بات کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ضرور پہنچا­وں گا ، چنانچہ یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی جس پر قرآن نازل ہوا : وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ.

اور اگر آپ ان سے پوچھیں گے تو وہ صاف کہیں گے کہ ہم تو یونہی آپس میں ہنس بول رہے تھے ” ۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں دیکھ رہا تھا کہ وہ شخص [ جس نے یہ بات کہی تھی ] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے کجاوے کی رسی پکڑ کر دوڑ رہا تھا ، پتھر اس کے پاوں کو زخمی کررہے تھے اور وہ معذرت کرتے ہوئے کہہ رہا تھا : اے اللہ کے رسول : ہم تو صرف مذاق کی باتیں کررہے تھے ،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جواب میں صرف یہ فرماتے تھے : قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ (65) لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ (66)التوبۃ” کیا اللہ، اس کی آیتیں اور اس کے رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے رہ گئے ہیں ، اب بہانے نہ بناو تم لوگ ایمان لانے کے بعد اب کافر ہوگئے ہو ” ۔

{ تفسیر الطبری : 6/409 } ۔

تشریح : ایک ملک کے کسی مشہور وزیر سے متعلق وسائل اعلام جیسے اخبارات ، انٹرنیٹ ، ٹویٹر اور فیس بک وغیرہ میں ایک خبر چھپی کہ اس نے گذشتہ رمضان میں کسی دن وقت سے قبل مرغے کی اذان [آواز ] پر روزہ افطار کردیا ، تو لوگوں نے ان عالیجناب وزیر سے کہا : حضرت ابھی تو اذان نہیں ہوئی آپ نے کیسے افطار کردیا ؟ اس پر وزیر صاحب کا جواب تھا : ” اذان اذان ہوتی ہے چاہے مرغے کی ہو یا مولوی کی ” ۔

قطعہ نظر اس سے کہ یہ خبر صحیح ہے یا صرف ایک لطیفہ، ہر حال میں یہ چیز خطرناک اور کسی بھی مسلم معاشرے میں شرمناک بھی ہے ، کیونکہ یہ مذاق و استہزاء کی وہ صورت ہے جو علماء کے نزدیک متفقہ طور پر دین سے ارتداد کے ہم معنی ہے، اگر وزیر صاحب نے فعلا یہ بات کہی ہے تو یہ ان کے بد دینی کی دلیل ہے جس سے صرف تو بہ ہی نہیں بلکہ ا ن کے لئے تجدید ایمان کی بھی ضرورت ہے، اور اگر کسی نے ان کی ظرافت طبعی اور مزاحیہ اسلوب کا استغلال کرکے ان کے نام پر یہ لطیفہ گھڑا ہے تو ایسا شخص دہرا مجرم ہے ، ایک تو دینی امور سے استہزاء جیسے قبیح اور دین سے خارج کردینے والے عمل کا ارتکاب کیا ہے اور دوسرے یہ کہ وزیر مذکور کی غیبت اور ان پر اتہام کا گھناونا جرم اس سے صادر ہوا ہے ۔ ۔۔۔حضرات : اللہ تعالی کی جناب ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور دینی و شرعی تمام چھوٹے بڑے احکام کا جانب محترم و محفوظ اور اس سے بہت اونچا ہے کہ اسے مذاق و استہزاء کا موضوع بنایا جائے ، ذرا زیر بحث حدیث پر غور کریں اور سوچیں کہ جن لوگوں سے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا کہ

” اب بہانے نہ بناو ، یقینا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے ” وہ لوگ یک گونہ مومن تھے اور یہ ساری باتیں انہوں نے بطور مذاق ، ہنسی اور صرف دلچسپی کے لئے کی تھی لیکن اس کے باوجود ان کا عذر قبول نہ ہوا، بلکہ ان کے اس موقف پر نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی دیکھئے کہ یہ بات کہنے والا شخص معذرت بھی کررہا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے کجاوہ کا پٹہ پکڑے ہوئے دوڑ رہا ہے ، ننگے پیر ہونے کی وجہ سے اس کے پیر پتھروں سے زخمی ہو رہے ہیں اور قسمیں کھا کھا کر یہ کہہ رہا ہے کہ اے اللہ کے رسول ہمارا مقصد صرف اور صرف ہنسی مذاق تھا ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی اس حدتک ہے کہ آپ صرف یہ جواب دے رہے ہیں ” کیا اللہ ، اس کے احکام اور اس کا رسول ہی مذاق کے لئے رہ گئے ہیں” ۔ ۔۔امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ آیت اس بارے میں نص ہے کہ اللہ تعالی اور اس کی آیتوں اور حکموں اور اس کے رسول کا مذاق اڑانا کفر ہے ۔

{ مجموع الفتاوی : 15/48 } ۔

امام فخر الرازی لکھتے ہیں : دین کا مذاق خواہ جس نیت سے ہو اللہ تعالی کے ساتھ کفر ہے ۔

{ التفسیر الکبیر : 6/126 } ۔

۔علامہ کوسی لکھتے ہیں کہ اس بارے میں اماموں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ { روح المعانی } ۔

حضرات اذان ایک اسلامی شعیرہ ہے اور قرآن مجید میں اسے : وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ

[” اور اس سے بہتر بات کرنے والا اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ تعالی کی طرف بلائے “] سے تعبیر کیا گیا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موذن کو یہ بشارت دی ہے کہ وہ قیامت کے دن سب سے اونچی گردن والا ہوگا ۔

{ صحیح مسلم }

موذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے وہاں تک کی ہر جاندار و بے جان چیز قیامت کے دن موذن کے لئے خیر کی گواہی دے گی ۔

{ صحیح بخاری }

ایمان و اخلاص سے موذن کی اذان کا جواب دینے والا جنتی ہے ۔ { مسلم } نیز فرمایا : جو شخص بارہ سال تک اذان دے اس کے لئے جنت واجب ہے ، ہر اذان کے بدلے اس کے نامہ اعمال میں ساٹھ نیکیاں اور ہر اقامت کے بدلے تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔

{ ابن ماجہ و الحاکم } ۔

یہ اور اس قسم کی بہت سے فضیلتوں والی اذان کے بارے میں صرف یہ کہہ کر اسے بے وزن کردینا کہ” اذان اذان ہوتی چاہے مرغ کی ہو یا مولوی کی” ، اس بات کی دلیل ہے کہ ایسا کہنے والے کی دل میں اسلامی شعائر کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، ذرا درج ذیل کا واقعہ پڑھیں اور پھر جو حکم لگانا چاہیں لگائیں ۔

ایک بار امیر تیمور کچھ ذہنی پریشانی اور الجھن کا شکار تھے اور کسی کی بات کا جواب نہیں دے رہے تھے ، اتنے میں ان کے مصاحبین میں سے وہ شخص جو انہیں خوش رکھنے کا کام کررہا تھا ، اس نے امیر کو ہنسانے کے لئے کہا : ابھی ابھی میرے پاس شہر کے قاضی تشریف لائے اور ماہ رمضان کے بارے مین بیان کرنے لگے ، اس پر ایک شخص نے کہا : قاضی صاحب : میرے پاس اس کی شہادت موجود ہے کہ فلاں شخص رمضان کے روزے کھا گیا ، یہ سن کر قاضی صاحب نے کہا کہ کاشکہ کوئی ایسا بھی ہوتا جو نما ز کو کھا جاتا کہ نماز و روزے سے ہمیں فرصت مل جاتی ، یہ سن کہ امیر مذکور سخت ناراض ہوئے اور کہنے لگے کہ ہنسی مذاق کے لئے صرف دینی باتیں ہی رہ گئی ہیں ، پھر اس شخص کو سخت سزا دینے کا حکم دیا ۔

{ شر فقہ اکبر :264 }

فوائد :

۱- اللہ ، رسول اور دینی احکام کا مذاق اڑانا کفراور دین سے ارتداد ہے ۔

۲- اہل دین کا ان کی دینداری کی وجہ سے مذاق اڑانا حقیقۃ دین کا مذاق اڑانا ہے ، کیونکہ زیر بحث واقعہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قاریوں اور حافظوں کے مذاق اڑانے کو اللہ تعالی نے اللہ اور اپنی آیات کا مذاق اڑانا قرارد یا ۔

۳- منکر اور گناہ کی بات کہنے والا ، اسے برضا و رغبت سننے والا اور پر موافقت کا اظہار کرنے والا سب کے سب گناہ میں برابر کے شریک ہیں ۔

ختم شدہ