قربانی اور عیدالاضحی کے اہم مسائل ، کتاب وسنت کی روشنی میں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قربانی اور عیدالاضحی کے اہم مسائل ،

کتاب وسنت کی روشنی میں

از قلم : شیخ عبد السلام عبد الحمید عمری حفظہ اللہ

{ناشر:مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

الحمد للہ رب العالمین والصلاةوالسلام علی أشرف النبیاء والمرسلین وعلی آلہ وصحبہ أجمعین وبعد “”””،

قربانی حکم وفضائل :

قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے . نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں ہمیشہ اس کا اہتمام فرمایا اور اپنی امت کو بھی اس کا اہتمام کرنے کا حکم دیا . قرآن وسنت میں اس کے متعلق مختلف دلائل موجود ہیں . ارشاد باری تعالی ہے ( فصل لربک وانحر )”پس آپ اپنے رب کیلئے نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے”

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : “اس دن پہلا کام ہم یہ کرتے ہیں کہ نماز عید ادا کرتے ہیں پھر واپس آکر قربانی کریں گے ، جس شخص نے ایسا کیا اس نے ہماری سنت کو پالیا “.

( صحیح بخاری حدیث نمبر ٥٥٤٥ ،مسلم حدیث نمبر ١٥٥٣) .

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سنت ابراہیمی پر مداومت اور ہمیشگی فرمائی ہے . جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں :” کان النی صلی اللہ علیہ وسلم یضحی بکبشین وأنا أضحی بکبشین ” یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی قربانی دیتےتھے اور میں بھی دو مینڈھوں کی قربانی کرتا ہوں . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو بھی تاکید فرمائی کہ وہ ہر سال قربانی کی سنت ادا کریں، جیسا کہ مخنف بن سلیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : “یا أیھا الناس ! ن علی أہل کل بیت فی کل عام أضحیة ” یعنی اے لوگو ! ہر سال ہر گھر والوں پر قربانی ہے (صحیح سنن الترمذی ٩٣٢ ، صحیح النسائی ٨٨٦٣ ).

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرنے والوں پر شدید ناراضگی کا اظہار فرمایا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” من کان لہ سعة فلم یضح فلایقربن مصلانا ” ترجمہ : “جو آسودہ حال ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے”(صحیح سنن ابن ماجہ ١٩٩٢) بلکہ صحابہ کرام قربانی کے جانور پالتے تھے جیسا کہ امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے حضرت ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے کہا : ” کنا نسمن الضحیة بالمدینة وکان المسلمون یسمنون ” ہم مدینہ طیبہ میں قربانی کے جانور کی پرورش کرکے فربہ کرتے تھے اور مسلمان بھی اسی طرح انھیں پال کر موٹا کرتے تھے . (صحیح البخاری ،االأضاحي).

قربانی کے آداب :

٭جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اسے چاہئے کہ ذوالحجہ کا چاند نظر آجانے کے بعد اپنے بالوں اور ناخنوں کو کاٹنے اور تراشنے سے باز رہے . جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم کا ارشاد ہے آپ نے فرمایا : ” ذا رأیتم ہلال ذی الحجة وأراد أحدکم أن یضحے فلیمسک عن شعرہ وظفرہ ” جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو اور تمھارا ارادہ قربانی کرنے کا ہو تو اپنے بالوں اور ناخونوں کو کاٹنے اور تراشنے سے باز رہو .

لیکن کسی قربانی کا ارادہ رکھنے والے شخص نے اپنے بالوں یا ناخونوں کو کاٹ لیا تو اس پر کوئی فدیہ نہیں البتہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے اللہ تعالی سے استغفار کرنا چاہئے .

٭ میت کو بھی قربانی میں شریک کرنا جائز ہے جیسا کہ امام مسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کی ہے ” بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم دیا جس کے ہاتھ ، پاؤں، پیٹ اور آنکھیں سیاہ ہوں . چنانچہ وہ آپ کے پاس لایا گیا تاکہ آپ اس کی قربانی کریں . پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے عائشہ ! چھری لاؤ . پھر آپ نے فرمایا : اسکو پتھر پر تیز کرو . انھوں نے حکم کی تعمیل کی . پھر آپ نے چھری کو تھاما اور مینڈھے کو ذبح کرنے کیلئے لٹا دیا پھر آپ نے فرمایا : ” اللہ کے نام کے ساتھ ، اے اللہ ! محمد ، آل محمد اور امت محمد کی طرف سے قبول فرما”.( مسلم حدسث نمبر ١٩٨٧)

قربانی کا جانور :

٭ قربانی کے لئے دو دانتا جانور ہونا چاہئے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : “لاتذبحوا لا مسنة لا أن یعسر علیکم فتذبحوا جذعة من الضأن” یعنی صرف دو دانتے جانوروں کی قربانی کرو اگر ایسا جانور نہ مل سکے تو جذعہ (چھ ماہ یا اس سے زیادہ کا دنبہ ) ذبح کرلو . ( صحیح مسلمحدیث نمبر ١٩٦٣)

حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ (جذعہ) کی عمر کے بارے میں رقمطراز ہیں : جمہور کے قول کے مطابق بھیڑ میں سے (جذعہ) وہ ہے جس نے اپنی عمر کا ایک سال مکمل کرلیا ہو . ( فتح الباری 5/10)

٭خصی اور غیر خصی دونوں قسم کے جانور کی قربانی کرنا سنت مطہرہ سے ثابت ہے .(تفصیلات کیلئے دیکھئے ، ارواء الغلیل ٢٥١٤، سنن ابو داؤد حدیث نمبر ٢٧٩٣)

٭ قربانی کا جانور موٹا ، تازہ ، خوبصورت اور ہر قسم کے عیب سے پاک ہونا چاہئے . وہ جانور جن کی قربانی جائز نہیں . اس کی تفصیلات مندرجہ ذیل حدیث سے معلوم ہوتی ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ” ہم جانور کی آنکھیں اور کان اچھی طرح دیکھ لیں اور ایسا جانور نہ ذبح کریں جس کا کان اوپر یا نیچے سے کٹا ہو ، جس کے کان لمبائی میں کٹے ہوں یا جس کے کان میں گول سوراخ ہو” . ( سنن ترمذی ١ ٢٨٣۔ ابوداؤد حدیث نمبر ٨٢٠٤)

نیز حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : کس جانور کی قربانی سے بچا جائے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کرکے کہا کہ چار قسم کے جانور وں کی قربانی منع ہے (١) لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو (٢) کانا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو (٣) بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو (٤) لاغر جانور جس کی ہڈیوں میں بالکل گودا نہ ہو “.( موطا ٢/ ٥٨٢ ، ترمذی ١ ٢٨٣ ، ابن ماجہ حدیث نمبر ٣١٤٤ وغیرہ ) .

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی کے جانوروں میں معمولی عیب کی معافی ہے اور جن جانوروں میں ان مذکورہ عیوب سے بڑا عیب ہوگا ان کی قربانی بھی جائز نہیں ہوگی.

قربانی کا وقت :

٭قربانی کا وقت نماز عید کے بعد شروع ہوتا ہے . اور ١٣ ذوالحجہ کو غروب آفتاب تک رہتا ہے اس لئے کہ ١١، ١٢، ١٣ ذوالحجہ کو ایام تشریق کہتے ہیں اور حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کل أیام تشریق ذبح ” ایام تشریق کے سارے دنذبح کے دن ہیں . (فتح الباری ١٠ ١١ ).

٭ ایک بکرے یا بھیڑ میں ایک سے زیادہ آدمی حصہ دار نہیں ہو سکتے البتہ گائے میں سات آدمی اور اونٹ میں دس آدمی حصہ دار ہو سکتے ہیں . اگر کوئی ایک سے زائد حصے رکھنا چاہے یا اکیلا ہی قربانی کرنا چاہے تویہ اس کی مرضی پر منحصر ہے . حدیث ملاحظہ فرمائیں . عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال : کنا مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی سفر فحضر الضحی فاشترکنا فی الجزور عن عشرة والبقرة عن سبعة ” ترجمہ: “سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے کہ عیدالاضحی آگئی . تو ہم نے اونٹ میں دس اور گائے میں سات آدمیوں نے شرکت کی “.( صحیح ترمذی ٢/٨٩. وصحیح ابن ماجہ ٢/ ٢٠٠)

٭قربانی کے جانور کو ذبح کرنا اس کی قیمت صدقہ کرنے سے افضل ہے کیونکہ اس میں سنت کا احیاء ، اظہار اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اسوہ حسنہ کی اتباع ہے .

قربانی کا گوشت :

٭ قربانی کا گوشت غرباء ومساکین پر صدقہ کرنا ، دوست واحباب اور عزیز و اقارب کو تحفہ دینا اور خود بھی حسب ضرورت کھانا جائزہے . اور اگر کچھ دنوں کیلئے بچاکر رکھنا چاہے تو رکھ سکتا ہے . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کلوا وادخروا وتصدقوا” کھائو ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو . (مسلم حدیث نمبر١٩٧١ کتاب الاضاحی)

عید کے دن کے آداب :

٭ عید کے دن غسل کرنا مستحب ہے . ٭عید گاہ میں عید کی دو رکعت نماز کے علاوہ نہ پہلے کوئی نفل نماز ہے اور نہ ہی بعد میں . ٭عید کی نماز کیلئے عید گاہ میں عورتیں بھی ضرور شرکت کریں . حتی کہ ایام ماہواری والی عورتیں بھی جائیں لیکن وہ نماز کی جگہ سے الگ رہیں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہیں .

نماز عیدین کا طریقہ

عیدین کی نماز میں بارہ تکبیریں ہیں . پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات اور دوسری رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہنی مسنون ہیں(ابوداؤدحدیث نمبر ١١٥٠ و ابن ماجہ حدیث ١٢٨٠ وغیرہ)

٭ عید کی نماز آبادی سے باہر عیدگاہ میں ادا کرنا سنت ہے البتہ اگر بارش وغیرہ ہو تو نماز عید مسجد میں ادا کی جاسکتی ہے . جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ سے بیہقی ٣/ ٣١٠ میں روایت موجود ہے .

٭ نماز عید کیلئے آتے جاتے ہوئے راستہ بدل لینا بھی سنت ہے .

٭ عید الفطر کے دن نماز ادا کرنے سے پہلے کچھ کھا کر جانا اور نماز عید الاضحی کی ادائیگی سے پہلے کچھ نہ کھانا مستحب ہے . ٭ عید گاہ کو جاتے ہوئے بلند آواز سے تکبیریں کہنا سنت ہے . تکبیر کے الفاظ یہ ہیں :

اللہ أکبر اللہ اکبر’ لالہ لااللہ واللہ أکبر ‘ اللہ أکبر وللہ الحمد.

٭ اگر عید کے دن جمعہ آجائے توجمعہ کی رخصت ہے (چاہے جمعہ کی نماز پڑھے یا ظہر ).

٩ ذی الحجہ ( یوم عرفہ )کے روزے کی فضیلت :

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ (نو ذی الحجہ ) کے روزے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : “یکفر السنة الماضیة والباقیة” یعنی عرفہ کے دن کا روزہ اگلے اور پچھلے دو سال کے گناہ کا کفارہ ہے . (صحیح مسلم حدیث نمبر ١١٦٢)

٭ اللہ تعالی نے ماہ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کو سارے سال کے دوسرے دنوں کے مقابلے میں اعلی ‘ افضل اور برتر قرار دیا ہے . اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” ان دس دنوں میں کئے ہوئے نیک اعمال بارگاہ الہی میں سال کے باقی سارے دنوں میں کئے ہوئے نیک اعمال سے زیادہ فضیلت والے اور محبوب ہیں . صحابہ کرام نے عرض کیا : یارسول اللہ ! جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا : جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں . ہاں مگر وہ شخص جو اپنی جان ومال کے ساتھ راہ جہاد میں نکلے اور کچھ واپس لیکر نہ آئے . ( یعنی اپنی جان و مال اسی راہ میں قربان کردے ).

٭ان ایام میں کثرت سے تہلیل،تکبیراور تحمید کہنا چاہئے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی دن بارگاہ الہی میں ان دس دنوں سیزیادہ عظمت والا نہیں ، اور نہ ہی کسی دن کا اچھا عمل اللہ تعالی کو ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب ہے پس تم ان میں کثرت سے لاالہ الااللہ ، اللہ اکبر اور الحمد للہ کہو . (مسند احمد حدیث نمبر ٥٤٤٦)

ہر مسلمان مرد اور عورت کو چاہئے کہ ان افضل ایام کو اللہ کی اطاعت اور اس کے ذکر وشکر میں گزارے . احکام وواجبات کو بجا لائے ،ممنوعہ چیزوں سے بچے اور ان ایام کو حصول اجرو ثواب کیلئے غنیمت سمجھے . وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم .

{ناشر:مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

ختم شدہ