قضا روزے/حديث نمبر :223

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :223

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :09/10/ شوال 1433 ھ، م 28/27،اگست 2012م

قضا روزے

عَنْ عَائِشَةَ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : كَانَ يَكُونُ عَلَىَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَهُ إِلاَّ فِى شَعْبَانَ

( صحيح البخاري:1950، الصوم – صحيح مسلم :1146، الصوم )

ترجمہ :حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ میرے ذمے رمضان کے روزے باقی رہتے جن کی قضا میں شعبان ہی میں قضا کرپاتی تھی ۔

{ صحیح بخاری ، صحیح مسلم } ۔

تشریح : رمضان المبارک کے روزے ایک فریضہ حتمیہ ہیں ،لیکن انسانی ضرورت و حاجت کے پیش نظر شریعت نے کچھ لوگوں کو رمضان کے دنوں میں روزوں کے ترک کرنے کی اجازت دی ہے ، پھر حالات کے پیش نظر کچھ لوگوں کو فدیہ دیکر اس فریضہ سے سبکدوش ہونے اور کچھ لوگوں کو بعد میں وقت فرصت قضا کرنے کا حکم دیا ہے ، چنانچہ قرآن مجید میں روزے کے احکام کے ضمن میں ارشاد باری تعالی ہے : فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ۔ البقرۃ:185.

” لہذا تم میں سے جو رمضان کا مہینہ پالے اسے چاہئے کہ اس کا روزہ رکھے اور جو مریض ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی کو پوری کرے ” ۔

اس آیت میں مریض و مسافر کا ذکر ہے ، لیکن ہر وہ شخص جن کی مجبوری مریض و مسافر جیسی ہے اس کا یہی حکم ہے ، ان میں سے بعض کا ذکر حدیثوں میں آیا ہے جیسے حیض و نفاس والی عورتیں اور حمل اور دودھ پلانے والی عورتیں ، چنانچہ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمیں [عہد نبوی میں ] ایام حیض سے دوچار ہونا پڑتا تو ان دنوں کی چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضا کی ہمیں حکم نہ دیا جاتا البتہ روزوں کی قضا کا حکم دیا جاتا ، نیز حضرت انس بن مالک الکعبی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی نے مسافر کے اوپر سے آدھی نماز معاف کردی ہے اور مسافر ، حاملہ عورت اوردودھ پلانے والی عورت کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت دی ہے ۔

{سنن اربعہ } ۔

ان دلائل سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کے روزے کسی سبب سے چھوٹ گئے ہوں ، اگر استطاعت ہے تو ان کے اوپر ان روزوں کی قضا واجب و فرض ہے ، زیر بحث حدیث میں بھی اسی طرف اشارہ ہے ۔روزوں کی قضا سے متعلق چند مسائل کا جاننا بہت ضروری ہے :

[۱] کسی عذر کی وجہ سے رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا واجب ہے ، البتہ اس کے لئے کوئی خاص وقت متعین نہیں ہے بلکہ سال بھر میں کبھی بھی قضا کرسکتا ہے ، جیسا کہ زیر بحث حدیث سے واضح ہے ۔

[۲] روزے کی قضا میں تاخیر سے کام لینا اگر چہ جائز ہے لیکن جس قدر جلد ممکن ہو رکھ لینا بہتر اور افضل ہے، کیونکہ اس طرح اپنی ذمہ داری سے سبکدوشی ،احتیاط کا پہلو اور حکم الہی” و سارعوا الی مغفرۃ من ربکم ” اور اپنے رب کی بخشش کی طرف دوڑ کر آو ” پر عمل ہے ۔

[۳] چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا بالترتیب، پے درپے بھی کی جاسکتی ہے اور متفرق طور پر بھی ،کیونکہ شریعت نے روزوں کی قضا کا حکم تو دیا ہے لیکن پے درپےیا متفرق طور کی کوئی قید نہیں لگائی ہے ، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : قضا روزے الگ الگ کرکے رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ،کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا “فعدۃ من ایام اخر” دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرو ۔

{ صحیح بخاری ، کتاب الصوم ، باب :40 } ۔

[۴] بہتر یہی ہے کہ قضا روزے بھی اسی طرح رکھے جائیں جس طرح رمضان میں ادا روزے رکھے جاتے ہیں یعنی لگاتار کیونکہ ایسا کرنا مکلف کے حق میں کئی ناحیے سے بہتر ہے ، جیسے فریضہ جلد ساقط ہوجاتا ہے ،علما کے اختلاف سے بچ جاتا ہے ، اگر چھوٹے ہوئے روزے زیادہ ہوں گے تو اس طرح کوتاہی و تکاسل کا خطرہ کم ہے ۔

[۵] پورے سال کے دنوں میں سے کسی بھی دن قضا روزے رکھے جاسکتے ہیں، سوائے ان دنوں کے جن میں روزوہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے ،جیسے عید کے دن اور ایام تشریق وغیرہ ۔

[۶] بلاکسی عذر شرعی دوسرا رمضان آنے تک روزوں کی قضا موخر کرنا جائز نہیں ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نصف شعبان کے بعد سے رمضان تک کوئی روزہ نہیں ہے ، ہاں ، جس کے اوپر رمضان کے فرض روزے باقی ہیں وہ لگاتار رکھ کر پورا کرے اور ناغہ نہ کرے ۔

{ سنن دار قطنی } ۔

[۷] اگر کسی نے عذر شرعی کی بنیاد پر قضا روزہ دوسرے رمضان تک موخر کردیا ہے تو رمضان گزرنے کے بعد اگر حالیہ رمضان کے روزے بھی کسی عذر سے رہ گئے ہیں تو پہلے حالیہ رمضان کے روزے پورا کرے پھر گزشتہ رمضان کے روزوں کی قضا کرے ۔

[۸] اور اگر روزہ کو دوسرے رمضان تک بلاعذر شرعی موخر کردیا ہے تو دوسرا رمضان گزرنے کےبعد ان روزوں کی قضا کرے اور بہتر یہ ہے کہ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا بھی کھلائے ۔ حضرت ابو ہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کا یہی فتوی ہے ۔

{ سنن الدار قطنی } ۔

[۹] اگر کسی شخص نے کسی عذر شرعی کی بنیاد رمضان کے روزے ترک کیا اور اس عذر کے ختم ہونے سے قبل اس کا انتقال ہوگیا تو اس پر سے روزے ساقط ہیں ۔

[۱۰] اگر کسی نے عذر شرعی سے روزے ترک کئے اور رمضان گزرنے کے بعد عذر زائل ہوگیا لیکن وہ شخص روزہ قضا کئے بغیر انتقال کرگیا تو اس کی طرف سے اس کے ولی روزہ رکھیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کا انتقال ہوا اور اس پر فرض روزے باقی ہیں تو اس کی طرف سے اس کے ولی روزہ رکھیں ۔

{ صحیح بخاری و صحیح مسلم بروایت ابن عباس } ۔

[۱۱] اگر ولی اس کی طرف سے روزہ نہ رکھیں یا نہ رکھ سکیں تو ہر دن کے عوض فدیہ ادا کریں ۔

[۱۲] اگر کسی نے جان بوجھ کر بلا شرعی عذر کے روزے ترک کردئے ہیں تو اس کی بھی قضا کرے گا اور ساتھ ہی ساتھ اس کبیرہ گناہوں سے توبہ بھی کرے گا ۔

[۱۳] جس کے ذمے رمضان کے قضا روزے ہوں اور وہ شوال کے چھ روزے رکھنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ پہلے رمضان کے قضا روزے پورا کرے پھر شوال کے روزے رکھے ،کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو اس نے گویا زمانے پھر روزے رکھے ۔

{ صحیح مسلم و سنن ابو داود } ۔

[۱۴] لیکن اگر رمضان کے روزے تعداد میں زیادہ ہوں کہ رمضان کے روزے اور پھر شوال کے روزے رکھنا مشکل ہو تو رمضان کے روزوں کی قضا کو موخر کیا جاسکتا ہے ،کیونکہ شوال کے روزوں کا وقت محدود ہے جب کہ رمضان کے روزوں کی قضا میں تاخیر کرنے کی گنجائش ہے ۔

[۱۵] اگر کسی نے رمضان کے روزوں کی نیت سے روزہ رکھ لیا تو کسی شرعی عذر کے علاوہ اس روزے کا تو ڑ نا جائز نہیں ہے، بلکہ اس کا پورا کرنا ضروری ہے ۔

[۱۶] رمضان کے قضا روزوں کی نیت اور روزے کی تعیین فجر سے قبل ضروری ہے ۔

ختم شدہ