لقمہ اور شیطان/حديث نمبر :212

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :212

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :16/17/ جمادی الآخر 1433 ھ، م 08/07،مئی 2012م

لقمہ اور شیطان

عَنْ جَابِرٍ بن عبد الله رضي الله عنهماأن رسو ل الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ” إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَأْنِهِ حَتَّى يَحْضُرَهُ عِنْدَ طَعَامِهِ ، فَإِذَا سَقَطَتْ مِنْ أَحَدِكُمُ اللُّقْمَةُ ، فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى ثُمَّ لِيَأْكُلْهَا ، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ ، فَإِذَا فَرَغَ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ تَكُونُ الْبَرَكَةُ ” .

( صحيح مسلم : 2034 ، الأشربة – مسند أحمد : 3/332 – صحيح ابن حبان :7 /460 )

ترجمہ : حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلاشبہ شیطان تم میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کے ہر کام کے وقت حاضر رہتا ہے حتی کہ اس کے کھانے کے وقت بھی اس کے پاس موجود رہتا ہے ، لہذا کھانا کھاتے وقت جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے اٹھالے اور اس میں جو گندگی [ مٹی وغیرہ ] لگی ہو اس سے صاف کرکے کھا لے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے ، پھر جب کھانے سے فارغ ہوجائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے ، اس لئے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۔

{ صحیح مسلم ، صحیح ابن حبان ، مسند احمد }

۔۔۔ صحیح ابن حبان کی روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ برتن اٹھانے سے قبل اسے چاٹ لے یا چٹوالے اس لئے کہ کھانے کے آخری حصے میں برکت ہوتی ہے ۔ ۔۔

تشریح : زیربحث حدیث میں کھانے کے چند آداب بیان ہوئے ہیں :

[۱] گرا ہوا لقمہ اٹھا لیا جائے : چونکہ شیطان کھانا کھاتے وقت بندے کے پاس حاضر رہتا ہے اور و ہ اس کے کھانے میں کسی نہ کسی بہانے سے شریک ہونا چاہتا ہے ، چنانچہ اولا تو اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اللہ کا نام لینے سے اسے غافل کردے تا کہ وہ اس کے ساتھ کھانے میں شریک ہوجائے لیکن جب بندہ کھانے کی ابتدا میں بسم اللہ کہہ لیتا ہے تو شیطان اس میں شرکت سے روک دیا جاتا ہے ، لیکن اس کا معنی یہ نہیں کہ وہ اس کا ساتھ چھوڑ کر ہٹ جاتا ہے ؟ نہیں بلکہ اس کے بعد وہ کوئی دوسرا حربہ استعمال کرتا ہے کہ وہ بندے کے اس مبارک کھانے میں شریک ہو لہذا وہ کوشش کرتا ہے کہ جیسے ہی بندہ غافل ہو اور کوئی لقمہ گر جائے تو اسے اٹھا کر کھالے ، لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ ہدایت دی کہ اگر کسی کا لقمہ کھاتے وقت گر جائے تو وہ اسے اس بہانے سے نہ چھوڑ دے کہ یہ تو معمولی سی چیز ہے ، اس میں گندگی لگ گئی ہے اور یہ لقمہ تو جراثیم کی نذر ہوگیا ہوگا وغیرہ وغیرہ ۔۔ بلکہ اسے اٹھائے ، اس میں لگی مٹی وغیر کو صاف کرکے کھالے اور اسے شیطان کا لقمہ نہ بننے دے ہاں ! اگر لقمہ ایسا ہے کہ کسی گندی چیز سے مل گیا ہے یا گیلا ہونے کی وجہ سے اس کا صاف کرنا ممکن نہیں ہے تو اسے خود تو نہ کھائے لیکن اسے ضائع بھی نہ کرے اور نہ ہی کوڑے میں ڈالے بلکہ اسے اٹھا کر اللہ تعالی کی کسی مخلوق کو دے دے ۔

[۲] انگلیاں چاٹ لے : کھانے کا ہر حصہ اللہ تعالی کی نعمت اور اس میں برکت ہے اس کی قدر یہی ہے کہ اسکا کوئی بھی حصہ ضائع نہ ہونے دیا جائے اور نہ ہی اسے نالیوں اور گھوڑوں کے نذر کیا جائے ، چنانچہ انگلیوں پر لگا ہوا کھانا ، انگلیاں دھونے یا صاف کرنے سے قبل چاٹ کر صاف کرلیا جائے اور اپنی خوراک کا حصہ بنالیا جائے ، بہت ممکن ہے کہ انہی میں برکت اورانسان کی صحت و قوت کا راز پنہا ہو ، چنانچہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اس پر تھا اور آپ صحابہ کو اس کا خصوصی حکم دیا کرتے تھے ، حضرت کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تین انگلیوں سے کھانا کھاتے پھر جب کھانے سے فارغ ہوتے تو انگلیوں کو چاٹ لیتے [ صحیح مسلم ] لہذا اس امر سے کراہت محسوس کرنا یا اسے تہذیب کے خلاف سمجھنا یا حرص و لالچ کی علامت تصور کرنا دین سے بیزاری اور حکم رسول کی مخالفت ہے ۔ عیاذ باللہ

[۳] برتن صاف کرے : تیسرا ادب یہ ہے کہ جس برتن میں کھانا کھایا جارہا ہے خواہ وہ چھوٹا برتن ہو یا بڑا برتن اسے صاف کیا جائے اور انگلیوں سے صاف کرکے انہیں چاٹ لیا جائے تاکہ اللہ تعالی کی دی ہوئی نعمت کا ایک دانہ بھی کوڑے کرکٹ اور گھڑ وغیرہ میں نہ جانے پائے لہذا چاہئے کہ اولا تو برتن میں اتنا ہی کھانا لیا جائے خواہ تنہا ہو یا لوگوں کے ساتھ ، جتنا آسانی سے ختم ہوجائے ، ثانیا : کھانا ایک کنارے سے کھایا جائے تاکہ اگر کھانے کا کچھ حصہ بچ رہا ہو تو اسے دوبارہ استعمال کے لئے محفوظ کرلیا جائے ، اگر خود نہیں کھا سکتا ہو تو اللہ تعالی کی کسی مخلوق کے لئے کسی محفوظ اور مناسب جگہ رکھ دیا جائے ۔

نوٹ:::

[۱] اس حدیث یا اس طرح کی دوسری حدیثوں میں وارد برکت کا علماء نے ایک سے زائد مفہوم لیا ہے : ۱۱- وہ کھانا انسان کے جسم کے لئے مفید ہو اور غذا کا کام دے ۔ ۔ ۲- انسانی صحت کے لئے باعث ضرر نہ ہو ۔۔ ۳- نفس کو آسودگی حاصل ہو ۔۔ ۴- دل مطمئن ہو ۔۔ ۵- عبادت و طاعت کے کام میں مدد گار ثابت ہو ،، وغیرہ ۔۔

{ شرح مسلم للنووی :13/105 ، حجۃ اللہ البالغہ :2/499 } ۔

[۲] اس حدیث یا اس طرح کی دوسری حدیثوں میں شیطان کی حاضری کا معنی حقیقت پر محمول ہے ، ہم اگرچہ اس کامشاہدہ و احساس نہیں کرتے لیکن الصادق و المصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی خبر دی ہے ، آپ کی خبر بر حق ہے اور آپ کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کرنا آپ پر ایمان لانے میں داخل ہے ، باوجود اس کے کبھی کبھار اللہ تعالی اپنے بندوں کو بھی اس کا مشاہدہ کرا دیتا ہے تاکہ ان کا دل مطمئن ہو اور رسولوں کی دی گئی غیبی چیزوں کے بارے میں شک پید ا کرنے والوں کا دروازہ بند ہوجائے ، اسکی سب سے واضح مثال شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کا اپنے گھر کا بیان کردہ ذیل کا قصہ ہے ۔

کہ ایک دن ہمارے ایک دوست ہمارے ہاں آئے ، ان کے لئے کھانا لایا گیا ، وہ کھا رہے تھے کہ ان کے ہاتھ سے ایک ٹکڑا گرگیا اور لڑھک کر زمین میں چلا گیا ، انہوں نے اس کو اٹھالینے کی کوشش کی اور اس کا پیچھا کیا مگر وہ ان سے اور دور ہوتا چلا گیا ، یہاں تک کہ جو لوگ وہاں موجود تھے [ اور اس تماشے کو دیکھ رہے تھے ] انہیں اس پر تعجب ہوا ، اور وہ صاحب جو کھانا کھارہے تھے انہوں نے جد وجہد کرکے [آخر کار ] اس کو پکڑ لیا اور اپنا نوالہ بنالیا — چند روز کے بعد کسی آدمی پر ایک جنی شیطان مسلط ہوگیا اور اس آدمی کی زبان سے باتیں کیں اور ہمارے اس مہمان دوست کا نام لے کر یہ بھی کہتا کہ فلاں آدمی کھانا کھارہا تھا ، میں اس کے پاس پہونچا، مجھے اس کا کھانا بہت اچھا معلوم ہوا مگر اس نے مجھے نہیں کھلایا تو میں نے اس کے ہاتھ سے اچک لیا اور گرادیا لیکن اس نے مجھ سے پھر چھین لیا ۔

اسی سلسلہ میں دوسرا واقعہ اپنے گھر ہی کا شاہ صاحب نے یہ بیان فرمایا ہے کہ ایک دفعہ ہمارے گھر کے کچھ لوگ گاجریں کھارہے تھے ، ایک گاجر ان میں سے گرگئی ، ایک آدمی اس پر جھپٹا اور اس نے جلدی سے اٹھا کر اس کو کھالیا ، تھوڑی ہی دیر بعد اس کے پیٹ اورسینہ میں سخت درد اٹھا ، پھر اس پر شیطان یعنی جن کا اثر ہوگیا تو اس نے اس آدمی کی زبان میں بتایا کہ اس آدمی نے میری گاجر اٹھا کے کھالی تھی ۔

یہ واقعات بیان فرمانے کے بعد شاہ صاحب نے لکھا ہے کہ :

اس طرح کے واقعات ہم نے بکثرت سنے بھی ہیں اور ان سے ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ یہ احادیث [ جن میں کھانے پینے وغیرہ کے سلسلہ میں شیاطین کی شرکت اور ان کے افعال و تصرفات کا ذکر آیا ہے ] مجاز کے قبیلہ سے نہیں ہیں بلکہ جو کچھ بتلایا گیا ہے وہی حقیقت ہے ۔۔۔ واللہ اعلم ۔

فوائد :

۱- شیطان کی انسانی دشمنی اور انسان کے لئے مفید چیزوں کو مضر بنانے کی اس کی کوشش ۔

۲- پلیٹ صاف کرنا ، انگلیوں کو چاٹنا اور گرے ہوئے لقمے کو صاف کرکے کھالینا ادب نبوی ہے ۔

۳- رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانے میں یہ بھی داخل ہے کہ آپ کی بتائی ہوئی ہر چیز کی تصدیق کی جائے خواہ وہ عقل میں آئے یا نہ آئے ۔

ختم شدہ