ماہِ شعبان کی اہمیت

بسم الله الرحمن الرحيم

ماہِ شعبان کی اہمیت

از : شیخ اصغر علی سلفی

میرے اسلامی بھائیو! یہ شعبان کا مہینہ ہے ،مہینوں سے متعلق اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے

( إ ن عدة الشہور عند اللہ اثنا عشر شہراًفی کتاب اللہ یوم خلق السموات والأرض منہا أربعة حرم )

مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ کی ہے ،اسی دن سے جب سے آسمان وزمین کو اس نے پیدا کیا ہے ان میں سے چار حرمت وادب کے ہیں ،، .

( سورئہ توبہ :٣٦)

ابتداء آفرینش سے ہی اللہ تعالی نے بارہ مہینے مقرر فرمائے ہیں جن میں چار حرمت والے ہیں اور وہ چار مہینے یہ ہیں :رجب، ذو القعدة ،ذوالحجة اور محرم.

بعض مہینے کی فضیلت اور اہمیت کتاب وسنت سے ثابت ہے جیسے ماہِ رمضان ،ذوالحجة و محرم اور شعبان وغیرہ ،مگر ماہ شعبان کی فضیلتوں کو کچھ لوگوں نے اسقدر بڑھ چڑھ کر بیان کرنا شروع کردیا کہ ان فضیلتوں کے سامنے ماہ رمضان کی فضیلتیں کم نظر آنے لگیں.ماہ شعبان کی فضیلت سے متعلق چند صحیح احادیث ملاحظہ فرمائیے:

عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںکہ :٫٫رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ رکھنے لگتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ اب افطار نہیں کریں گے، اور جب روزہ رکھنا چھوڑدیتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ اب روزہ نہیں رکھیں گے.اور میں نے نہیں دیکھا ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی مہینہ میں مکمل ایک ماہ روزہ رکھا، اور میں نے نہیں دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ سلم رمضان کے بعد شعبان مہینہ سے زیادہ کسی مہینہ میں روزہ رکھتے ہوں،،

( بخاری کتاب الصوم باب:٥٢حدیث:٧٣٦)

انہیں سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ٫٫میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا ہے کہ شعبان سے زیادہ(رمضان کے بعد) کسی مہینہ میں روزہ رکھتے ہوں،چند دن چھوڑ کر پورے ماہ روزہ رکھتے تھے،،

( ترمذی کتاب الصوم باب:٣٧حدیث: ٧٣٦)

انہیں سے مروی ہے کہ٫٫مہینوں میں سب سے زیادہ شعبان میں روزہ رکھناپسند کرتے تھے اور ساتھ ہی رمضان کو بھی ملا لیتے ،،

(ابو داؤد کتاب الصوم باب:٥٧حدیث:٢٤٣١)

اسی طرح ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی کہ ٫٫میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان اور رمضان کے علاوہ کسی اور دو مہینے مسلسل روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ،،(ترمذی کتاب الصوم باب:٣٧حدیث:٧٣٦)

ختم شدہ