مسجد نما گھر / حديث نمبر: 258

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :258

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

مسجد نما گھر

بتاریخ : 17/ صفر  1436 ھ، م  09،ڈسمبر  2014م

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رضي الله عنه  أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ َقَالَ: « صَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلاَةِ صَلاَةُ المَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا المَكْتُوبَةَ».( صحيح البخاري : 731 ، الأذان – صحيح مسلم :781 ، المسافرين  )

ترجمہ  : حضرت  زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اے لوگو ! اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو ، اس لئے کہ آدمی کی افضل نماز وہ ہے جو اپنے گھر میں  پڑھے   ، سوائے فرائض کے ۔ { صحیح بخاری و صحیح مسلم } ۔

تشریح : اللہ تعالی نے ساری انسانیت کے لئے اور  بالاخص مسلمانوں کے لئے  نبی ﷺ کو بہترین نمونہ بنا کر بھیجا ہے :   لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ .  (21)الاحزاب۔ یقین مانو رسول اللہ ﷺ  میں تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے  ۔ اور آپ کی اطاعت میں دنیا و آخرت کی فلاح رکھی ہے ۔ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (13)النساء۔اورجو اللہ اور  اس کے رسول کی اطاعت کرے گا  وہ ایسی جنتوں  میں داخل  ہوگا جس کے نیچے نہریں جاری ہونگی ، و ہ  ان میں ہمیشہ رہےگا اور یہی  بڑی عظیم کامیابی ہے ۔

لیکن عبادات خصوصا نفلی عبادتوں سے غفلت ، آخرت سے لاپرواہی  اور دنیا  میں مشغولیت  نے آج عام مسلمان ہی نہیں  بلکہ  بہت سے خاص لوگوں کو بھی  نبی ﷺ  کی بہت سی سنتوں  سے غافل کردیا ہے ، حتی کہ بعض امور ایسے بھی ہیں  جن کی مشروعیت  نبی ﷺ  سے ثابت ہے مزید یہ کہ  نبی ﷺ نے اس کی تاکید بھی فرمائی ہے ، لیکن   لوگوں کی توجہ ان کی طرف نہیں ہوتی ،انہیں میں سے  ایک چیز اپنے گھروں کو نماز وذکر سے آباد رکھنا ہے اور انہیں  قبرستان کی طرح بلا ذکر و تلاوت چھوڑ  نہیں دینا ہے ، ارشا د نبوی ہے : تم اپنی نمازوں میں کا کچھ حصہ  اپنے گھروں کے لئے  کرو اور انہیں  قبرستان نہ بنا و ۔ {بخاری و مسلم }

یعنی جس طرح سے قبرستان نماز و تلاوت کی جگہ نہیں ہے ویسے ہی تمہارا گھر نہیں ہوجانا چاہئے ، بلکہ گھروں میں نماز و تلاوت  ہی کواس گھر کی زندگی بتلایا ہے ۔” اس گھر کی جس میں  اللہ کا ذکر  کیا جائے  اور اس گھر کی جس میں  اللہ تعالی  کا ذکر  نہ کیا جائے  زندہ اور مردہ کی مثال ہے “۔ { صحیح مسلم } ۔

زیر بحث حدیث میں بھی  اسی امر کا حکم ہے  حتی کہ گھروں میں نفل  نماز  کا وہ اجر ہے کہ  حرمین  شریفین  میں بھی نفل  پڑھنے کی وہ اہمیت نہیں ہے ، چنانچہ  ایک بار صحابہ کرام مسجد نبوی  میں  جمع ہوکر  نبی ﷺ کی آمد کا انتظار کررہے تھے تاکہ  آپ کے ساتھ نماز پڑھیں تو آپ ﷺ نے ان سے مخاطب ہوکر فرمایا : “اے لوگو ! اپنے گھروں  میں نماز  پڑھو، کیونکہ  فرض نمازوں کے علاوہ دیگر  نمازوں کا گھروں  میں پڑھنا انسان کے لئے  افضل ہے”۔ {صحیح بخاری } ۔ ایک بار کسی صحابی نے نبی ﷺ  سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ گھر میں نماز  پڑھوں اور مسجد میں پڑھوں  دونوں میں کیا فرق ہے ؟نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا  :”تم دیکھ رہے ہو کہ  میرا گھر مسجد سے کس قدر قریب ہے اس کے باوجود  گھر میں نماز پڑھنا   مسجد میں پڑھنے کے مقابلے میں مجھے زیادہ محبوب ہے الا یہ کہ وہ نماز فرض ہو”[ تو اس کا مسجد میں ادا کرنا ضروری ہے ] { صحیح ابن خزیمہ } ۔

اس کی علماء متعدد وجہیں  بیان کی ہیں کہ : [۱] گھر میں سنت  و نفل نمازیں  پڑھنا اخلاص کے زیادہ  قریب اور  ریاء  ونمود سے بچاو ہے ۔ [۲] گھر میں خیر  و برکت  کا سبب ہے ۔ ارشاد نبوی ہے “جب فرض نماز پڑھ لو تو  اپنی نماز کا باقی حصہ  گھر میں پڑھو  کیونکہ  اس طرح اللہ تعالی  تمہارے  گھر میں خیر و برکت رکھے گا”۔ { صحیح مسلم  ، صحیح ابن خزیمہ ، بروایت جابر } ۔ [۳] شیطان اور ارواح خبیثہ  سے گھر کی حفاظت ۔ [۴] اجر عظیم کا حصول ۔ ارشاد نبوی ہے کہ” آدمی کا ایسی جگہ نماز پڑھنا جہاں اسے کوئِی دیکھ نہ رہا ہو اس جگہ نماز پڑھنے کے مقابلہ میں جہاں لوگ دیکھ رہے ہوں پچیس گنا زیادہ افضل ہے” ۔ { مصنف عبد الرزاق و مصنف ابن ابی شیبہ } ۔ [۵] نبی ﷺ کی اتباع ہے، اور نبی ﷺ کی اتباع اللہ کی رضا کا سبب ہے ۔ [۶] بچوں کی تربیت اور عبادت کے کام پر انہیں شوق دلاتا ہے ۔ دو مسئلے : [۱] اگر کوئی عذر ہو تو سنتوں اور نوافل کا مسجد ہی میں پڑھنا بہتر ہوگا :

  • أ‌- بھول جانے کاڈر ہے ۔
  • ب‌- راستے میں کوئی رکاوٹ  پیش آسکتی ہے ۔
  • ت‌- گھر میں بچے تشویش پیدا کریں گے اور نماز میں خلل ڈالیں ۔
  • ث‌- وقت کے نکل جانے کا خوف ہے ۔
  • ج‌- مسجد میں بیٹھنے میں کوئی مصلحت ہے، جیسے تعلیم و تعلم وغیرہ ۔
  • ح‌- کوئی شرعی مصلحت ہے ، جیسے لوگوں کے لئے نمونہ ، سفر سے آنے کی دو رکعت ، جمعہ کے لئے  جلدی آنا ہے وغیرہ ۔

[۲] وہ نفلی نمازیں جن کے لئے  جماعت مشروع ہے ان کی مسجدمیں  یا لوگوں  کے ساتھ میں ادا کرنا افضل ہوگا ۔ جیسے :

  • أ‌- عیدین کی نماز ۔
  • ب‌- استسقاء کی نماز ۔
  • ت‌- گرہن کی نماز ۔
  • ث‌- تروایح کی نماز ۔ وغیرہ ۔

فوائد :

  • نفلی نمازوں کا گھر میں ادا کرنے کی اہمیت ۔
  • نفلی عبادت جس قدر چھپ کرکی جائے اسی قدر  زیادہ  باعث اجر ہوگی ۔
  • سنتوں اور نفل نمازوں  کا گھر  میں ادا کرنا حرمین شریفین میں ادا کرنے  سے بھی زیادہ باعث اجر ہے۔