معانقہ و دست بوسی/حديث نمبر :215

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :215

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :07/08/ رجب 1433 ھ، م 29/28،مئی 2012م

معانقہ و دست بوسی

عن أنس بن مالك قال: قال رجل : يا رسول الله الرجل منا يلقي أخاه أو صديقه أينحني له ؟ قال: لا، قال: أفيلتزمه ويقبله ؟ قال: لا، قال: أفيأخذ بيده ويصافحه ؟ قال نعم .

( سنن الترمذي:2728 الاستئذان، مسند أحمد 3/198، سنن ابن ماجة: 3702 الأدب.)

ترجمہ:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سوال کیا : اے اللہ کے رسول ، ہم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی یا دوست سے ملتا ہے تو کیا اس کے لئے جھک جائے ؟ آپ ﷺنے فرمایا : نہیں ، اس نے کہا : تو کیا اس سے چمٹ جائے[معانقہ کرے] اور اسے بوسہ لے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں ، اس نے آگے سوال کیا : تو کیا اس کا ہاتھ پکڑ کر اس سے مصافحہ کرے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ۔

{ سنن الترمذی ، سنن ابن ماجہ ، مسند احمد }

تشریح : مصافحہ ، معانقہ اور دست بوسی مشروع اور آداب ملاقات میں داخل ہیں ، لیکن ہر ایک کا وقت اور موقعہ الگ الگ ہے ، جب کہ جھکنا اور قدم بوسی کرنا آداب ملاقات سے خارج اور شرعا ممنوع ہیں ، تفصیل کچھ اس طرح ہے :

مصافحہ : عام ملاقات ، حالت اقامت اور دوستوں اور ساتھیوں کی یومیہ ملاقات کے وقت مصافحہ سنت ، گناہوں کی معافی کا ذریعہ اور باہمی محبت کا سبب ہے ،” جب بھی دو مسلمان ملاقات کریں اور باہمی مصافحہ کریں تو جدا ہونے سے قبل ان کے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں” ۔ { سنن ابو داود ، سنن الترمذی } ۔” مومن بندہ جب اپنے بھائی سے ملاقات کے وقت سلام کرتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کرتا ہے تو درخت کے سوکھے پتوں کے جھڑنے کی طرح ان کے گناہ جھڑ جاتے ہیں “۔ { الطبرانی الاوسط } ۔

معانقہ : سفر سے آمد، عرصہ دراز کے بعد ملاقات اور شدت محبت کے وقت معانقہ مشروع ہے ، نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام سے ایسا ثابت ہے ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام جب آپس میں ملتے تو مصافحہ کرتے اور جب سفر سے واپس آتے تو معانقہ کرتے ۔ { الطبرانی الاوسط و البیھقی } ۔ حضرت جعفر بن ابو طالب جب حبشہ کے سفر سے واپس آئے تو اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں چمٹا لیا اور معانقہ کیا ۔ { مسند ابو یعلی وغیرہ }

زیر بحث حدیث میں جس معانقہ اور چمٹنے سے روکا گیا ہے اس کا موقعہ محل سفر نہیں ہے بلکہ یومیہ ملاقات ہے ، چنانچہ امام بغوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : مکروہ و ممنوع معانقہ وہ ہے جو چاپلوسی و تعظیم کے طور پر ہو اور حضر میں ہو ، البتہ جس معانقہ کی اجازت ہے وہ سفر کے لئے رخصت کرتے وقت ، سفر سے آمد پر اور اپنے کسی محبوب سے لمبی جدائی کے بعد ملاقات کے وقت ہے ۔ { شرح السنہ :12/ 293 } ۔

دست بوسی : علامہ البانی رحمہ اللہ زیر بحث حدیث پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں : کسی عالم و بزرگ کے ہاتھوں کے چومنے سے متعلق متعدد حدیث و بہت سے آثار وارد ہیں جن کا مجموعہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایسا کرنا اللہ کے رسول اور سلف سے ثابت ہے ، اس لئے جب درج ذیل شرطیں پائی جائیں تو ہم اس کو جائز سمجھتے ہیں ۔

۱- اسے عادت نہ بنا لیا جائے کہ استاذ و پیر اپنے شاگردوں کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلاتا پھرے اور لوگ تبرک کی نیت سے اس کے ہاتھ کو چومیں ، اس لئے کہ نبی ﷺ کے ہاتھ کا بوسہ اگر چہ لیا گیا ہے لیکن ایسا شاذ و نادر تھا ، اور جو چیز شاذ و نادر ہو اسے عام سنت نہیں بنانا چاہئے جیسا کہ یہ ایک فقہی اصول ہے ۔

2- یہ عمل عالم کے تکبر اور غیروں پر اپنی بڑائی ظاہر کرنے کا سبب نہ بنے جیسا کہ آج یہ امر مشاہدہ میں ہے ۔ [ کہ اگر ایسے لوگوں کے ہاتھ کو نہ چوما جائے تو وہ ناراض ہوتے ہیں ] ۳- اس سے مصافحہ جیسی سنت معطل ہو کر نہ رہ جائے جو نبی ﷺ کے قول وفعل سے ثابت ہے یہ مصافحہ کرنے والوں کے گناہوں کے کفارہ کا سبب ہے، جیسا کہ بہت سی حدیثوں سے ثابت ہے ، لہذا ایک ایسے کام سے جو صرف جائز کی حد تک ہےاس سے مصافحہ جیسی فضیلت والی سنت کو چھوڑا نہیں جائے گا ۔ { الصحیحہ : 1/ 302 } ۔

چومنا اور سر کا بوسہ دینا : معانقہ کی طرح سر اور پیشانی کا بوسہ دینا بھی سفر سے آمد اور لمبی فرقت کے بعد ملاقات کے آداب میں سے ہے ، چنانچہ نبی ﷺ نے اپنے چچے زاد بھائی حضرت جعفر الطیار کی آمد پر ان کی پیشانی کا بوسہ بھی لیا تھا ۔ { الصحیحہ : 26577 } ۔

جھکنا اور قدم بوسی : البتہ جھکنا یعنی سلام کرتے یا مصافحہ کرتے وقت رکوع یا اس کے قریب جیسی کیفیت بنانا جیسا کہ بعض لوگوں کی عادت ہے ، یا قدم چومنا یہ عمل جائز نہیں ہے اور نہ ہی اس پر کوئی شرعی دلیل موجود ہے ، زیر بحث حدیث میں جھکنے سے بصراحت منع کیا گیا اور قدم بوسی تو اس سے بھی قبیح چیز اور سجدہ سے مشابہ ہے ۔

بعض لوگ سنن الترمذی وغیرہ کی ایک حدیث پیش کرتے ہیں جس میں دو یہودیوں کا ذکر ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے کچھ سوال کیا ، جب آپ نے ایک سوال کا جواب دے دیا تو انہوں نے آپ کے ہاتھ و پیر کا بوسہ دیا ۔ { سنن الترمذی : 2733 ، سنن ابن ماجہ : 3705 } ۔ لیکن اولا : تو یہ حدیث ضعیف ہے جیسا کہ علامہ البانی نے فرمایا ۔ ثانیا : یہ دونوں یہودی منافق قسم کے لوگ تھے کہ ا ن کے سامنے حق واضح ہوجانے کے بعد بھی وہ اسلام قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوئے ، پھر ایسے لوگوں کے عمل کو کس طرح دلیل بنایا جاسکتا ہے ، ثالثا : آپ ﷺ کے ساتھ رہنے والے اور آپ کے مقام و مرتبہ کو اچھی طرح پہچاننے والے صحابہ جیسے ابو بکر و عمر ، عثمان و علی وغیرھم رضی اللہ عنہم نے ایسا کبھی نہیں کیا ، جب کہ وہ لوگ آپ سے محبت کرنے والے اور آپ کے حق کو زیادہ پہچاننے والے تھے ۔ اسی طرح قدم بوسی کے قائلین ایک حدیث یہ بھی پیش کرتے ہیں : وازع بن عامر بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے ، جب ہمیں بتلایا گیا کہ یہ رسول اللہ ہیں تو ہم بڑھ کر آپ کے ہاتھ اور پیروں کو چومنے لگے ۔ { الادب المفرد :975}۔ لیکن یہ حدیث بھی ضعیف ہے، چنانچہ الادب المفرد کے شارح علامہ فضل اللہ جیلانی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس حدیث کو عبد القیس قبیلے کے صباح نامی خاندان کی ایک بدوی عورت روایت کرتی ہے جو مجہول اور غیر معروف ہے جس کی روایت سے تو اس کے دادا وازع کا صحابی ہونا بھی ثابت نہیں ہوتا ، اس کی حدیث کا صحیح ہونا تو دور کی بات ہے ، نیز اس حدیث کی شرح میں علامہ مرحوم فقہ حنفی کی کتاب شامی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ عالم یا پیر سے یہ کہنا کہ اپنا پیر آگے بڑھائے تاکہ اسے چوما جائے اور عالم و پیر کا یہ بات مان لینا ، اسی طرح علماء و روساء کے سامنے زمین چومنا یہ سب حرام ہے ، ایسا کرنے والا اور اس پر راضی ہونے والے دونوں گنہگار ہیں ۔ { فضل اللہ الصمد :2/439 } ، علامہ البانی نے بھی اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے ۔ { ضعیف الادب المفرد : 89 } ۔ نیز یہ بھی دیکھا جائے کہ ایسا کرنے والے نو وارد اور جاہل قسم کے لوگ تھے، جو اسلامی احکام سے اچھی طرح واقف نہیں تھے ، لیکن چونکہ ان کی دلجوئی مقصود تھی لہذا رسول اللہ ﷺ انہیں منع نہیں کیا ، جب کہ کبار صحابہ نے آپ کے ساتھ ایسا کبھی بھی نہیں کیا ۔ ۔خلاصہ یہ کہ قدم بوسی کے سلسلے میں کوئی صحیح حدیث اور صحابہ سے کوئی اثر ثابت نہیں ہے لہذا یہ ایک بدعی عمل اور ناجائز ہوگا ۔

فوائد :

۱- عام ملاقات کے وقت صرف مصافحہ مسنون ہے ، البتہ سفر سے واپسی اور لمبی جدائی کے بعد معانقہ مستحب ہے ۔ ۲- امام بغوی کہتے ہیں کہ بوسہ ہاتھ اور سر اور پیشانی کا مشروع ہے منہ [ اور رخسار ] کا نہیں ۔ ۔ ۳- قدم بوسی غیر مشروع اور بدعت ہے ۔۔۔ ۴- اپنے بچوں اور اپنے اہل خانہ کو چومنا اور بوسہ دینا الگ چیز ہے اس کا تعلق آداب ملاقات سے نہیں ہے ۔

ختم شدہ