نماز کے وقت سوتے رہنا اور وقت نکل جانے کے بعد پڑہنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نماز کے وقت سوتے رہنا

اور وقت نکل جانے کے بعد پڑہنا

سوال: میرا ایک بڑا بھائی ہے جو عصر کے علاوہ تمام نمازیں جماعت سے پڑ ھتاہے البتہ عصر کی نماز میں سستی ا برتتا ہے اور وقت داخل ہونے کے ایک گھنٹہ بعد {بغیر جماعت کے}نماز پڑہتاہے،میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ حجت پیش کرتا ہے کہ وہ تھکا رہتا ہے اور سونا چاھتاہے،ایسے شخص کے ساتھ میرا کیا برتاوہ ہونا چاہے، اسی طرح میرا ایک اور بھائی ہے جو تمام نمازیں باجماعت اداکرتا ہے سوائے فجر کے نید کی وجہ سے جماعت سے سے نہیں پڑھتاالبتہ جب ہم نماز سے واپس آتےہیں تو اسے ہر طرح بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں توالحمد للہ وہ اٹھکر نمازپڑھ لیتا ہے ،کیا اس پر وہ گناہ گار ہے ؟ اور اس شخص کا کیا حکم ہے جو اکثر ایام نماز فجر سورج نگلنے کے بعد پڑھتاہے ؟

جواب: مسجد میں جماعت سے نماز پڑ ہنا واجب ہے ،چاہئے کہ مسلمان کو کوئی بھی کام اس سے روک نہ سکے بلکہ اس کے نزدیک یہ یعنی نماز باجماعت سب سے اہم کام ہو نا چاہئے ، اور اگر کسی شخص نے اپنے آپ کو تمناوں میں الجہائے رکھا اور کھانے کے بعد بستر پر لیٹ گیا جسکی وجہ سے نید آگئی تو یہ اسکی طرف سے کوتاہی شمار ہوگی ،اسے چاہئے ہوشیار ،چوکنا اور شیطان کے وسوسوں سے دور رہے جنکی وجہ سے اس پر اطاعت الہی کو مشکل اور بوجہ بناکر پیش کرتا ہے ،شیطان اسے امیدیں دلاتا اور سستی وکاہلی پر ابھارتا رہتا ہے تا کہ اطاعت کے کام فوت ہوجائیں ،اللہ تعالی محفوظ رکھے یہ تو بہت بڑی محرومی ہے، اسلئے اے بھائی چاہئے کہ تو نماز عصر کی حفاظت کرے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : من صلی البر دین دخل الجنۃ جس نے دوٹھنڈی نمازیں {عصر وفجرکی}پڑھی وہ جنت میں داخل ہوگا، البتہ تمہارا دوسرا بھائی جو فجر کے وقت سوتا رہتا ہے اور فجر کو سورج نکلنے کے بعد پڑھتاہے تو وہ بہت بڑے جرم کا ارتکاب کرہاہے کیونکہ نماز کو بغیر عذر شرعی کے وقت سے ٹال دینے کے بارے میں بہت سے علمائ کی رائے ہے کہ ایسی نماز کی قضا نہیں ہے اور یہ علمائ کہتے ہیں کہ ایسا شخص بہت بڑی گمراہی یعنی {اللہ کی پناہ}وہ کفر میں جا پڑاہے ، واضح رہے کہ نید ہمیشہ عذر نہیں ہے کہ کوئی شخص اسکی وجہ سے نماز چھوڑنے کی عادت بنالے اور اسے ضائع کردے ، یہ بہت بڑی غلطی ہے ،اسلئے جو شخص ہمیشہ نید کی وجہ سے نمازجماعت سے چھوڑ تا ہے وہ بلا شبہ گنہگار اور بڑی غلطی پر ہے، البتہ تمہارا وہ بھائی جوگہرے نیند والاہے اور جگانے کے بعد بھی جلدی بیدار نہیں ہوتا{اس اللہ ہی بہتر جانتا ہے}بلکہ اسکے بیدار ہونے کیلئے ایک لمباوقت درکار ہے اور الارم گھڑی وغیرہ سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا تو اللہ تعالی سے امید رکھتا ہوں کہ اسکی اس کوتاہی کو معاف فرمائے گا لیکن اس چاہئے کہ وہ کوشش واجتھاد سے کام لے امید ہے کہ اللہ تعالی اسکی مدد کریگا ،بیان کیا جاتا ہے کہ صفوان بن معضل السلمی رضی اللہ عنہ بہت گہری نیند سوتے تھے حتی کہ{ایک غزوہ کے موقعہ پر}اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ اپنی جائے قیام کوچ کرگئے انھیں اسکا احساس بھی نہیں ہوا حتی کہ سورج کی گرمی سے وہ بیدار ہوئے اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایسی گہری نید میں مبتلا تھے جو انسانی قدرت سے باہر کی بات ہے

اسی لئے ارشاد باری تعالی ہے لایکلف اللہ نفسا الا وسعہا

{ فتاوی شیخ بن باز رحمہ اللہ }