پیر و مرشدکی نافرمانی/حديث نمبر :205

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :205

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ :19/20/ ربیع الثانی 1433 ھ، م 13/12،مارچ 2012م

پیر و مرشدکی نافرمانی

عَنْ عَلِيٍّ ، رضي الله عنه قال: قال رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ ” . .

( صحيح البخاري :7257 ، أخبار الآحاد – صحيح مسلم :1840 ، الإمارة )

ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی کی نافرمانی کے کاموں میں کسی بشر کی فرمانبرداری جائز نہیں ہے ، طاعت و فرمانبرداری تو نیکی کے کاموں میں ہے ۔ { صحیح بخاری و مسلم }۔

تشریح : اس حدیث کا سبب ورود یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک بار ایک فوج روانہ کی اس پر ایک انصاری صحابی کو امیر مقرر فرمایا اور لوگوں کو تاکید فرمائی کہ اس کی بات سننا اور ماننا ، لیکن ہوا یہ کہ امیر صحابی لوگوں کی کسی حرکت پر سخت ناراض ہوئے اور لوگوں کو لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دیا ، جب لکڑیاں جمع ہوگئیں تو اس میں آگ بھڑکانے کے لئے کہا ، پھر جب آگ بھڑک اٹھی تو لوگوں سے کہا : کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے تمہیں حکم نہیں دیا ہے کہ میری بات سننا اور اس پر عمل کرنا ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اللہ کے رسول نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے ، امیر نے کہا : تو میرا حکم ہے کہ تم سب لوگ اس آگ میں کود پڑو ،یہ سن کر ان میں کچھ لوگ تو آگ میں کودنے کے لئے تیار ہوگئے اور کچھ لوگ مترد د رہے ، اتنے میں ایک نوجوان صحابی نے کہا ہم لوگ آگ سے بچنے کے لئے مسلمان ہوئے ہیں لہذا جلد بازی نہ کرو بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے اس امر کی تاکید کرلو ، اگر آپ یہی حکم دیتے ہیں تو ہم آگ میں کود جائیں گے ، لوگ اسی تکرار میں تھے کہ ان کے امیر کا غصہ ٹھنڈا پڑگیا اور آگ بھی بجھ گئی ، جب لوگ خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان لوگوں سے جو آگ میں کودنے کا ارادہ کئے تھے فرمایا : اگر تم لوگ آگ میں کود پڑے ہوتے تو قیامت تک اس سے باہر نہ آپاتے اور ان لوگوں کی تعریف کی جو آگ میں کودنے کے منکر رہے ، پھر آپ نے فرمایا : اللہ تعالی کی نافرمانی کے کام میں اطاعت نہیں ہے طاعت صرف بھلائی کے کاموں میں ہے ۔

{ صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، مسند احمد :1/82 و 134 }

اس حدیث سے ایک اصولی بات یہ معلوم ہوئی کہ کسے باشد وہ خواہ کتنا ہی بزرگ و برتر ہو وہ اگر کسی ایسے کام کا حکم دیتا ہے جس میں شریعت کی مخالفت ہے تو اس کی بات ماننا ناجائز اور حرام ہوگا بلکہ جہنم میں جانے کا سبب بنے گا خواہ وہ ذات ان لوگوں میں سے ہو جنکی طاعت و فرمانبرداری کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے جیسے والدین ، علماء ، حاکم وقت اور شوہر وغیرہ بلکہ اس حدیث سے یہ بھی واضح ہوا کہ مذکورہ لوگوں کی اطاعت صرف انہیں کاموں میں کی جائے گی جو شرعا جائز اور مصلحت عامہ کے قبیل سے ہوں گے لہذا اگر کوئی عالم ایسا فتوی دیتا ہے یا کوئی حاکم ایسا نظام بناتا ہے یا شوہر اور والدین کسی ایسی چیز کا حکم دیتے ہیں جو شریعت کی نظر میں جائز نہیں ہے تو ان کی طاعت و فرمانبرداری قطعا جائز نہیں ہے اس حدیث کو نقل کرنے ، اس کی سند اور اس کا سبب ورود کو ذکر کرنے کے بعد علامہ البانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس حدیث میں بہت سے فائدے ہیں ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ گناہ اور اللہ تعالی کی نافرمانی کے کاموں میں حکام ، علماء اور پیروں کی اطاعت جائز نہیں ہے اور یہیں سے چند گروہوں کی گمراہی کا پتہ چلتا ہے ۔

[۱] صوفیوں کا روپ اختیار کئے ہوئے وہ بعض لوگ جو بلا قید و بند پیر و مرشد کی اطاعت کرتے ہیں خواہ وہ انہیں بظاہر کسی گناہ کے کام کا حکم دیں جس کی دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ حقیقت میں وہ نافرمانی نہیں ہوتی کیونکہ پیر وہ کچھ دیکھتا ہے جو مرید نہیں دیکھ سکتا ، میں بذات خود ایک ایسے شیخ کو جانتا ہوں جو اپنے کو وعظ و ارشاد کے منصب پر بٹھا رکھا تھا ، ایک بار اس نے اپنے مریدوں کے سامنے ایک واقعہ بیان کیا جسکا خلاصہ یہ ہے کہ کسی صوفی پیر نے ایک رات اپنے کسی مرید کو حکم دیا کہ جاؤ اور اپنے باپ کو جواپنے بستر پر اپنی بیوی کے پہلو میں لیٹا ہوا ہے اسے قتل کردو ، چنانچہ جب وہ مرید اپنے باپ کو قتل کرکے خوشی خوشی اپنے پیر کے پاس آیا کیونکہ اس نے اپنے پیر کا حکم پورا کردیا تھا تو پیر نے اس کی طرف دیکھ کر کہا : کیا تو سمجھتا ہے کہ تو نے حقیقت میں اپنے باپ کو قتل کیا ہے ؟ وہ تو تیری ماں کا شناسا تھا ، تیر باپ تو کہیں گیا ہوا ہے ۔ یہ قصہ بیان کرنے کے بعد شیخ نے اس سے یہ شرعی حکم اخذ کیا کہ اگر پیر اپنے مرید کو کسی ایسے کام کا حکم دیتا ہے جو بظاہر شریعت کے خلاف ہوتا ہے تو مرید کو اس کی بات مان لینی چاہئے اس لئے کہ تم دیکھتے نہیں ہو کہ پیر نے تو بظاہر اس شخص کو اپنے باپ کو قتل کرنے کا حکم دیا جب کہ فی الواقع وہ اس زانی کے قتل کا حکم تھا جو شرعا قتل کا مستحق تھا ، حالانکہ یہ قصہ شرعی طور پر کئی اعتبار سے باطل ہے ۔ ۔۔۔۔

۱- پیر و شیخ خواہ کتنا ہی بڑا ہو حد نافذ کرنے کا حق اسےحاصل نہیں ہے بلکہ یہ حق حاکم وقت یا اس کے نائب کا ہے ۔

۲- اگر یہ اس کے لئے جائز بھی تو صرف مرد ہی کو کیوں قتل کیا گیا عورت کو کیوں چھوڑدیا گیا حالانکہ دونوں جرم میں برابر ہیں ۔

۳- زنا کرنے والا اگر شادی شدہ ہے تو شرعا اسکی حد رجم ہے نہ کہ ہتھیار سے قتل کرنا ۔ ۔۔اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ اس پیر نے کئی اعتبار سے شریعت کی مخالفت کی ۔

[۲] دوسرا گروہ ان اندھے مقلدین کا ہے جو اپنے مذہب کی پیروی کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان پر مقدم رکھتے ہیں خواہ مسئلہ بالکل واضح ہی کیوں نہ ہو ، چنانچہ جب کسی سے کہا جائے کہ فجر کے نماز کی اقامت ہوجائے تو فجر کی سنت نہ پڑھو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نےا س سے صراحت کے ساتھ منع فرمایا ہے تو وہ آپ کی بات نہیں مانتا اور کہتا ہے کہ ہمارا مذہب اس کی اجازت دیتا ہے ، اس طرح اگر یہ کہا جائے کہ حلالہ کی نیت سے کیا گیا نکاح باطل ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا کرنے والے پر لعنت بھیجی ہے تو وہ آپ کی بات نہیں مانتا اور کہتا ہے کہ فلاں مذہب اس کی اجازت دیتا ہے اس قسم کی سیکڑوں مثالیں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے محققین کا کہنا ہے کہ ایسے مقلدین پر نصاری کے بارے میں اللہ تبارک وتعالی کا یہ فرمان صادق آتا ہے کہ [اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ وَالمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ] {التوبة:31} ” ان لوگوں نے اپنے عالموں اور پیروں کو اللہ کے سوا معبود بنا لیا ہے ” ۔ جیسا کہ فخر الدین رازی نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے ۔

[۳] تیسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو اپنے حاکموں کے بنائے ہوئے خلاف شرع قانون و قرار دادوں کو قبول کرلیتے ہیں جیسے آج کل کمیونزم وغیرہ اور سب سے برا یہ کہ بعض لوگ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ احکام شریعت کے مخالف نہیں ہیں ، آج کے بہت سے مدعیان علم بھی اس مرض میں مبتلا ہیں جن سے بہت سے عوام بھی دھوکہ میں آگئے ہیں ، ان لوگوں اور ان کے پیروکاروں پر مذکورہ آیت مکمل صادق آتی ہے ۔۔

{دیکھئے الصحیحہ : 352- 354 }

فوائد :

۱- گناہ و نافرمانی کے کام میں کسی فرد بشر کی اطاعت جائز نہیں ۔ ۔

۲- بڑے سے بڑااور نیک سے نیک آدمی سے بھی غلطی کا امکان ہے ۔ ۔

۳- پیروں اور فقیروں کی ایسی اطاعت جس میں شرع کی مخالفت ہو جہنم کی آگ میں جلنے کا سبب ہے ۔ ۔

۴- جن لوگوں کی اطاعت کا شرعا حکم ہے وہ اپنے مفہوم میں عام نہیں ہیں بلکہ حدود شرع سے مقید ہے ۔

ختم شدہ