کبیرہ گناہ و جھوٹی گواہی/ حديث نمبر :03

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :03

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :29/01/ صفر،ربیع الاول 1428 ھ، م 20/19،مارچ 2007م

کبیرہ گناہ و جھوٹی گواہی

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ثَلَاثًا قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَجَلَسَ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَقَالَ أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِوَشَهَادَةُ الزُّورِ قَالَ فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ.

(صحيح البخاري:2654الشهادات، صحيح مسلم:87 الإيمان.)

ترجمہ : حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :کیا میں تمہیں سب سے بڑے بڑے گناہ نہ بتلاوں ؟ یہ الفاظ آپ نے تین بار دہرائے ، ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بتلایئے ، آپ نے فرمایا : اللہ تعالی کا شریک ٹھہرانا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، [ ابھی تک ] آپ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے پھر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور فرمایا : سنو !!! جھوٹی بات کہنا اور جھوٹی گواہی دینا ، پھر آپ یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے تمنا کی کہ کاش آپ خاموش ہوجاتے ۔

{ صحیح بخاری ومسلم } ۔

تشریح : اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی اور ان کے حکم سے سرتابی کا نام گناہ ہے ، جو اللہ تعالی کو سخت ناپسندیدہ اور اس کی نعمتوں سے محرومی کا سبب ہے ، لیکن ہر نافرمانی اور گناہ ایک ہی درجے کے نہیں ہیں بلکہ اشخاص ، حقوق ، زمان و مکان اور اس گناہ پر مرتب نتائج کی بنیاد پر اس کی قباحت و شناعت میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے ، چنانچہ قرآن و حدیث اور اہل علم کے اقوال سے پتہ چلتا ہے کہ گناہ دو قسم کے ہیں :

[۱] کبیرہ یا کبائر : وہ بڑے گناہ جس کے مرتکب پر لعنت بھیجی گئی اور اسے جہنم کے عذاب کی دھمکی دی گئی ہو ۔

[۲] صغیرہ یا صغائر : وہ گناہ ، قرآن و حدیث میں جن کے ارتکاب سے روکا گیا ہو لیکن ان کے مرتکب پر دنیا و آخرت میں کوئی حد بیان نہیں ہوئی ہے ۔

قرآن مجید درج ذیل آیت میں گناہوں کی دونوں قسموں کا ذکر ہے: {إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلاً كَرِيماً(31)}النساء۔ جن بڑے بڑے گناہوں سے تمہیں روکا گیا ہے اگر تم ان سے بچتے رہےتو ہم تمہاری [چھوٹی چھوٹی] برائیوں کو تم سے [تمہارے حساب سے]محو کردیں گے، اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے۔

زیر بحث حدیث میں ایسے ہی چار بڑے گناہوں کا بیان ہوا ہے جو شریعت کی نظر میں سخت قبیح اور ان کا انجام بہت ہی برا ہے ۔

{۱} شرک باللہ : اللہ تعالی کی ذات ، اس کی صفات اور اس کے خصائص و حقوق میں کسی مخلوق کو شریک کرنا شرک کہلاتا ہے ۔۔۔۔

شرک سب سے بڑا گناہ ہے اور اللہ تعالی کی بہت بڑی حق تلفی ہے ، ارشاد باری تعالی : إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (13)

” شرک بڑا بھاری ظلم ہے ” ۔۔ اسی لئے ۔۔ : {إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالاً بَعِيداً(116)النساء۔” اللہ تعالی اپنے ساتھ شرک کئے جانے کو نہ بخشے گا ، اس کے علاوہ جس کو چاہے گا بخش دیگا اور جس نے اللہ تعالی کے ساتھ شرک کیا وہ بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ کیونکہ انسان کے وجود میں آنے ، اس کے لئے معیشت کے سارے سامان مہیا کرنےا ور دنیا و آخرت میں کامیابی و سرخروئی کے اصول بتانے میں سب سے بڑا حق اللہ تبارک وتعالی کا ہے اور اس کے حق کی ادئیگی اسی صورت میں ممکن ہے کہ انسان صرف اور صرف باری تعالی کی عبادت کرے اور اسی کا گن گائے ۔

{۲} انسان کے وجود میں آنے کا دوسرا سبب اس کے والدین ہیں جنہوں نے اس کے آرام کے لئے اپنا سب کچھ قربان کیا ، خود تکلیف اٹھائے اوربچے کو آرام دیا ، خود جاگتے رہے اور بچے کو سلایا ، خود بھوکے رہے اور بچے کو کھلایا اور خود تنگی میں رہے لیکن بچے کو حتی المقدور ہر تکلیف سے بچایا ، ایسی صورت میں ان کے ساتھ بدسلوکی ان کی خدمتوں کا انکار اور ان کے احسان کا برا بدلہ دینا ہے ۔ سچ فرمایا اللہ تعالی نے : أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ (14)لقمان۔ ” تو میری شکر گزاری کر اور والدین کی بھی شکر گزاری کر ” ۔

{۳ – ۴ } اس حدیث میں تیسرا اور چوتھا کبیرہ گنا ہ ، جھوٹ اور جھوٹی گواہی دینا بیان ہوا ہے ، ان دونوں کاموں کی قباحت و خطرناکی کے پیش نظر ان پر تنبیہ کرنے کے لئے آپ ٹیک چھوڑ کر سیدھے بیٹھ گئے اور بار بار ، زور دار انداز میں فرمایا کہ جھوٹی بات کرنا اور جھوٹی گواہی دینا [ بھی بڑے بڑ ے گناہوں میں داخل ہے ] اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی شرک سے بڑا گناہ ہے ؟ نہیں ہر گز نہیں ، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جھوٹ بولنے اور جھوٹی گواہی دینے کے دواعی زیادہ پائے جاتے ہیں اور عام لوگ اس بارے میں کوتاہی سے کام لیتے ہیں جب کہ شرک کو ہر شخص فطری اور شرعی طور پر برا سمجھتا ہے اور اس کے وداعی بھی کم پائے جاتے ہیں ۔

فوائد :

۱- گناہ کی دو قسمیں ہیں بڑے گناہ اور چھوٹے گناہ ۔

۲- سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ انسان اپنے خالق ، موجد اور محسن حقیقی کے ساتھ شرک کرے ۔

۳- اللہ تبارک وتعالی کے بعد سب سے بڑا حق والدین کا ہے ، اسی لئے ان کی نافرمانی اور ان کےساتھ بدسلوکی کو شرک کے بعد بہت بڑا گناہ اور ان کے ساتھ حسن سلوک کو اللہ کی عبادت کے بعد سب سے بڑی نیکی قرار دیا گیا ہے ۔

4- کبیرہ گناہوں کی معافی کے لئے توبہ ضروری ہے۔

۴- جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا بھی کبیرہ گناہ ، اور شریعت کی نظر میں بہت ہی گندے اور گھناونے عمل ہیں ، کسی بھی شخص کی خیر خواہی ، رشتہ داری اور دوستی جھوٹی شہادت کے جواز کی علت نہیں بن سکتی ۔

ختم شدہ