کرم الہي/حديث نمبر : 23

بسم اللہ الرحمن الرحيم

حديث نمبر : 23

کرم الہي

خلاصہ درس شيخ أبو کليم : بروزپير و منگل بتاريخ : 19/18 /فروري 2008ئ

مطابق : 11/ 12/ صفر 1429ھ

عن علي بن طالب رضي اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم: يا علي ألا أعلمک کلمات اذا قلتھن غفرلک مع أنہ مغفور لک : لا الہ الا اللہ العلي العظيم ، لا الہ الا اللہ الحليم الکريم ، سبحان اللہ رب السماوات السبع ورب العرش العظيم والحمد للہ رب العالمين .

( مسند أحمد :1/ 92)

ترجمہ : حضرت علي بن ابي طالب رضي اللہ عنہ سے روايت ہے وہ بيان کرتے ہيں کہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمايا :اے علي ميں تمہيں چند ايسے کلمات سکھلا تا ہوں ، اگر تم نے انہيں کہہ ليا تواللہ تعالي تمہارے گناہوں کو معاف فرمادے گا اور ويسے بھي تمہارے گناہ معاف کردئے جائيں گے : “لا الہ الا اللہ العلي العظيم ، لاا لہ الا اللہ الحليم الکريم ، سبحان اللہ رب السماوات السبع ورب العرش العظيم والحمد للہ رب العالمين”۔

تشريح : يہ چند پيارے کلمات ہيں جنہيں نبي کريم الصادق المصدوقﷺنے اپنے عزيز ترين بھائي ، محبوب ترين ساتھي اور بہت ہي پيارے داماد شير خدا حضرت علي بن ابي طالب رضي اللہ عنہ کو سکھلايا ہے اورانکے ذريعہ پوري امت کو يہ انمول تحفہ ديا ہے کہ ہر وہ شخص جو مغفرت الہي سے سرفراز ہونا چاہتا ہے ، اپنے گناہوں سے خلاصي چاہتا ہے اور اپنے درجات کي بلندي کا خواہش مند ہے ، اسے ان کلمات کا ورد کرنا چاہئے, ان کلمات کا حقيقي فائدہ اسي وقت حاصل ہوسکتا ہے جبکہ بندہ ان کے معني ومفہوم پر نظر رکھے اور اپني زندگي کو ان کے مقتضاکے سانچے ميں ڈھالنے کي پوري کوشش کرے ۔

…………….. يہ کلمات چار چھوٹے جملوں پر مشتمل ہيں :

٭ پہلا جملہ : “لاا لہ الا اللہ العلي العظيم “: اللہ کے علاوہ کوئي حقيقي معبود نہيں ہے جو بہت ہي بلند اور بڑي عظمت والا ہے ۔

٭٭ دوسرا جملہ : “لاا لہ الا اللہ الحليم الکريم” : اللہ کے علاوہ کوئي حقيقي معبود نہيں ہے جو بڑا ہي برد بار اور بہت کرم والا ہے .

ان دونوں جملوں ميں أولا –تو اللہ تبارک وتعالي کي شانِ الوہيت بيان ہوئي ہے کہ مخلوق کي ہر قسم کي عبادت کا حقدار صرف اللہ تعالي ہے خواہ وہ عبادت ظاہرہ ہوں جيسے نماز ، روزہ ، حج ، زکاة ، دعاء ، استغاثہ ، رکوع ، وسجود ، اور نذر ونياز وغيرہ يا وہ عبادات باطنہ ہوں جيسے محبت ، خوف ، توکل ، اميد وغيرہ ، يہ تمام کي تمام عبادات باري تعالي کا حق ہيں ان ميں سے کوئي بھي عبادت غير اللہ کيلئے نہيں کي جائيگي ۔

ثانيا– ان دونوں جملوں ميں اس معبود حقيقي کے بعض پيارے پيارے نام بھي مذکور ہيں جو اس بات پر دال ہيں کہ بندوں کي ساري عبادات کا مستحق وہي ذات اس لئے کہ اس ميں بہت سي بلند وبالا خوبياں پائي جارہي ہيں، چنانچہ وہ بہت ہي بلند ہے اپني ذات کے لحاظ سے بھي بلند ہے کہ اس سے اوپر کوئي چيز نہيں ہے، وہ اپنے مرتبہ ومقام کے لحاظ سے بھي بہت بلند ہے کہ اس سے اونچا مقام ومرتبہ کسي مخلوق کا نہيں ہے ، وہ اپنے حکم وفرمان کے لحاظ سے بھي بہت بلند ہے کہ اسکا حکم وفرمان سب سے اوپر اور سب پر غالب ہے کسي بھي حاکم وامام کا حکم اس پر مقدم نہيں رکھا جاسکتا ۔ ………… “وہ بڑي عظمت والا ہے” ، وہ اپني ذات کے لحاظ سے بھي عظيم ہے کہ ساري مخلوق اسکے سامنے چھوٹي اور حقير ہے ، وہ اپنے افعال کے لحاظ سے عظيم ہے ،اس سے بہتر اور عمدہ طريقے سے کام کو انجام دينے والا کوئي نہيں ہے، اسکے افعال ہر قسم کے عيوب سے پاک ہيں، وہ اپني صفات ميں بھي عظيم ہے کہ اسکي صفات سے بہتر اور کامل کسي کي بھي صفات نہيں ہيں حتي کہ وہ اپني عظمت ميں کامل اور کمال ميں اس قدر انتہاء کو پہنچا ہوا ہے کہ مخلوق کا تصور بھي اس تک نہيں پہنچ سکتا ۔

“وہ بڑا ہي حليم وبردبار ہے “کہ بندوں کو سزا دينے ميں جلد بازي سے کام نہيں ليتا بلکہ انہيں توبہ کرنے کا موقعہ عنايت فرماتا ہے ، لوگ سالوں سال اسکا ديا ہوا رزق کھا کر بھي اسکے احکام سے بغاوت کرتے ہيں پھر بھي وہ اس قدر تحمل وصبر سے کام ليتا ہے کہ ان پر اپنا عذا ب نازل کرنے ميں جلد بازي نہيں کرتا ۔

“وہ بہت ہي کرم والا ہے “اسکا کرم اس قدر عام ہے کہ ہر نيک وبد اور مومن وکافر کو پہنچ رہا ہے ، اسکا کرم اسقدر آسان ہے کہ ہر طاقتور وکمزور شخص اس سے مستفيد ہورہا ہے ، اسکا کرم اسقدر عام ہے کہ جن وانس اور چرند وپرند ہر ايک اسميں ڈوبے ہوئے ہيں ، اسکا کرم اسقدر وسيع ہے کہ ہزارہا ولاکھہا سال سے لوگ اسے لوٹ رہے ہيں ليکن اس ميں ذرہ برابر کمي واقع نہيں ہوتي ۔

٭٭٭تيسرا جملہ : “پاک ہے اللہ تعالي ، وہي ساتوں آسمانوں اور عرش عظيم کا رب ہے” ۔

وہ اللہ ہر قسم کے عيب ونقص سے پاک ہے اسکي ذات بھي ہر عيب ونقص سے پاک ہے ، اسکي صفات بھي کامل اور پاک ہيں اور اسکا ہر کام بھي کمي وکوتاہي سے ُمبرّا ہے ۔

“وہي ہے جو ساتوں آسمانوں اور عرش عظيم جيسي مخلوقات کا مالک ہے “، پھر ذرا سوچيں کہ جو ذات ہر قسم کے حسن وجمال کا منبع ہو ، ساتوں آسمان اور عرش جيسي عظيم سے عظيم تر مخلوق کا مالک ومدبر ہو، کيا وہ ہماري ہر قسم کي عبادت کي مستحق نہيں ہے؟ يقينا وہي اور ٍصرف وہي ہے ۔

٭٭٭٭ چوتھا جملہ : “سب تعريفيں اللہ تعالي ہي کيلئے ہيں جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے” ، اللہ ہي کي ذات ہے جو تمام مخلوقا ت کو پال رہي ہے ہر مخلوق کي ضرورت پوري کررہي ہے ، اللہ تعالي مخلوق کي ديني اور انکي دنياوي ضرورتيں بھي پوري کررہا ہے ، اس لئے بندے کي ہر قسم حمد وثنا کا مستحق بھي وہي ہے ……. الحمد للہ رب العالمين ……………..

(1) حضرت علي رضي اللہ عنہ کي فضيلت اور نبي کريم ﷺکے نزديک انکا مقام ومرتبہ ۔

( 2) اللہ تعالي کا فضل وکرم کہ معمولي سے عمل پر بہت بڑے اجر سے نوازتا ہے ۔

( 3) اس حديث ميں گناہوں سے مراد صغيرہ گناہ ہيں کيونکہ کبيرہ گناہوں کے لئے توبہ ضروري ہے ۔ (4) توحيد کي فضيلت واہميت ۔

ختم شدہ