کھانے کے آداب/حديث نمبر :211

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :211

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :09/10/ جمادی الآخر 1433 ھ، م 01/30،اپریل،مئی 2012م

کھانے کے آداب

عن عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ رضي الله عنهما قال : كُنْتُ غُلَامًا فِي حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصَّحْفَةِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا غُلَامُ سَمِّ اللَّهَ وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ فَمَا زَالَتْ تِلْكَ طِعْمَتِي بَعْدُ

( صحيح البخاري : 5376، الأطعمة – صحيح مسلم : 2022، الأشربة )

ترجمہ : حضرت عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں بچہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر پرورش تھا اور میرا ہاتھ کھاتے وقت پیالے میں ہر طرف چلتا تھا تو یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے بچے، اللہ کا نام لے کر کھاو ، دائیں ہاتھ سے کھاو اور اپنے قریب سے کھاو ۔ پس اس کے بعد سے کھانے کا میرا یہی طریقہ رہا ہے ۔

{ صحیح بخاری ، صحیح مسلم } ۔

تشریح : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ہر چیز کا ادب و سلیقہ سکھلایا ہے جن کے لحاظ کا ایک فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ بندے سے تہذیب و انسانیت ظاہر ہوتی ہے اور دوسرا فائدہ یہ کہ وہ روحانیت اور تقرب الی اللہ کی منزل تک پہنچ جاتا ہے اور تیسرا بڑا فائدہ یہ کہ ان آداب میں متعدد اعتبار سے بعض طبی مصلحتیں بھی ہوتی ہیں ۔ زیر بحث حدیث میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زیر پرورش ایک چھوٹے نابالغ بچے کو بھی کھانے کے ایسے ہی بعض آداب سکھلائے ہیں ، چنانچہ حضرت عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہما چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیرپرورش تھے اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے والد کی شہادت کے بعد ان کی والدہ حضرت ام سلمہ سے شادی کرلی تھی ، ان دنوں وہ آپ کے ساتھ کھانے پر بیٹھتے تھے تو کھانے کے دوران ان کا ہاتھ پلیٹ میں ہر طرف چلتا رہتا ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادب سکھاتے ہوئے فرمایا : بچے ، اللہ کا نام لے کر کھاو ،دائیں ہاتھ سے کھاو اور اپنے سامنے سے کھاو ۔ اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن ابو سلمہ کو کھانے کے تین اہم ادب بتلائے ہیں ۔

[۱] اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو : یعنی کھانے سے قبل بسم اللہ ، یا”بسم اللہ الرحمن الرحیم” پڑھا جائے یہ پہلا ادب ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کو سکھلایا ، اس ادب کے لحاظ میں متعدد روحانی و مادی فائدے ہیں ایک تو یہ کہ اللہ تعالی کا نا م باعث برکت ہے لہذا جو کام بھی اللہ تعالی کا نام لے کر شروع کیا جائے وہ مکمل اور مفید ہوتا ہے دوسرا امر یہ کہ کھانے کی ابتدا میں اللہ تعالی کا نام لینے میں بندے کے اندر یہ شعور پیدا کرتا ہے کہ یہ نعمت اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور وہی اس میں برکت دینے والا اور اسے ہمارے لئے مفید بنانے والا ہے ، تیسرا بڑا اہم فائدہ یہ کہ اپنے عمل کی ابتدا اللہ کے نام سے کرتا ہے تو شیطان کے لئے اس میں دخل اندازی کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس کھانے پر اللہ کا نام نہ لیا جائے تو شیطان اس کو اپنے لئے حلال سمجھتا ہے

{ صحیح مسلم } ۔

اس لئے ضروری ہے کہ کھانا شروع کرنے سے قبل بسم اللہ کہا جائے اور اگر کبھی بھول جائے تو کھانے کے دوران جب بھی یاد آئے ، “بسم اللہ اولہ و آخرہ” پڑھ لے { سنن ابو داود ، سنن الترمذی } ، تاکہ شیطان کے شر سے محفوظ رہے ۔

[۲]دائیں ہاتھ سے کھاو : انسان فطری طور پر اپنے ہاتھ کو مرغوب اور غیر مرغوب دونوں کاموں کے لئے استعمال کرتا ہے یعنی کھانے کے لئے بھی استعمال کرتا ہے اور ناک و پیشاب و پائخانہ صاف کرنے کے لئے بھی ، لہذا فطرت کا تقاضا ہے کہ اس کے ایک ہاتھ کو مرغوب کام میں استعمال کےلئے اوردوسرے کو غیر مرغوب چیزوں کے استعمال کے لئے خاص کردیا جائے ، اسی فطری تقاضے کے مطابق دائیں ہاتھ کو طبعا مرغوب کاموں کے لئے یعنی کھانے پینے ، لینے دینے وغیرہ کے لئے خاص کردیا گیا اور بائیں ہاتھ کو استنجا ، ناک صاف کرنے اور اس طرح کے دیگر کاموں کے لئے خاص کردیا گیا، جیسا کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی معمول رہا ہے ، پھر چونکہ شیطان اللہ کا نافرمان اور انسان کا دشمن ہے اس لئے وہ کھانے کے لئے بھی بایاں ہاتھ استعمال کرتا ہے اسی لئے انسان کو حکم ہے کہ وہ کھانے کے لئے اور اسی طرح لینے دینے کے لئے دایاں ہاتھ ہی استعمال کرے ، ارشاد نبوی ہے : تم میں سے کوئی اپنے بائیں ہاتھ سے ہرگز نہ کھائے اور نہ اس سے پئے اس لئے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے ۔

{ صحیح مسلم } ۔

[۳] اپنے قریب سے کھاو : اگر انسان لوگوں کے ساتھ ایک دسترخوان پر بیٹھتا ہے اور لوگ ایک ساتھ کھا رہے ہیں تو ہر شخص کو چاہئے کو اپنے سامنے سے کھائے اور اپنے ساتھی کے سامنے سے کھینچ کر کوئی چیز نہ لے کیونکہ یہ حرکت ایک طرف جہاں بے ادبی اور لالچ کی علامت ہے وہیں دوسری طرف اپنے ساتھی کے شعور کو مجروح کرنا ہے اس کا حق لینا ہے ، الا یہ کہ دسترخوان پر مختلف انواع کی چیزیں ہیں اور ہر ایک دوسرے کے سامنے سے لینے کا محتاج ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

نیز اپنے سامنے سے کھانے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اپنے فضل و کرم سے اللہ تعالی کھانے کے وسطی حصے میں برکت نازل فرماتا ہے اور وہیں سے برکت پھیل کر برتن کے دوسرے حصوں تک پہنچتی ہے ، اس لئے یہ تعلیم دی گئی کہ ہر شخص اپنے سامنے سے کھائے اور درمیان کو نزول برکت کے لئے چھوڑ دے چنانچہ ارشاد نبوی ہے : برکت کھانے کے درمیان میں اتر تی ہے لہذا تم اس کے کناروں سے کھاو اور درمیان سے نہ کھاو ، بلکہ درمیانی حصے کو برکت کے نزول کے لئے چھوڑ دو ۔

{ سنن ابو داود ، سنن الترمذی } ۔

فوائد :

۱- اپنے بچوں اور زیر کفالت لوگوں کو ادب کی تعلیم دینی چاہئے ۔

۲- موقعے ہی پر بچے کو اچھے انداز سے تنبیہ و نصیحت کی جائے تو اس کا زیادہ اثر ہوتا ہے ۔

۳- دائیں ہاتھ سے کھانا پینا واجب ہے اور اسکی مخالفت جائز نہیں ہے ۔

۴- حضرت عمر بن سلمہ کی فضیلت کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف ایک تنبیہ پر اپنی عادت بدل لی اور آخری عمر تک اس پر قائم رہے ۔

ختم شدہ