ہلکے اور وزنی کلمے/حديث نمبر :11

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :11

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :27/28/ ربیع الثانی 1428 ھ، م 15/14، مئی 2007م

ہلکے اور وزنی کلمے

عَنْ اَبِی ہُرَیْرَة رضی اللّہُ عنہ قال :قَالَ رسولُ اللّہِ صلی اللہ علیہ وسلم ؛کَلِمَتَا نِ حَبِیْبَتَانِ اِلَی الرَّحْمٰنِ خَفِیْفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْزَان ِ ،سُبْحانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْم ۔

(صحیح البخاری:٦٤٠٦الدعواتصحیح مسلم:٢٦٩٤الذکر)

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:دوکلے رحمن کو بہت پیارے ہیں ،زبان پر بہت ہلکے ہیں اور ترازو میں بہت بھاری ہیں ، سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔

]بخاری ومسلم[

تشریح : ذکر الہی ایک بہت اہم عبادت ہے اور اللہ تعالی کو تمام اعمال میں سب سے زیادہ محبوب ہے ، اللہ تبارک تعالی اپنے فضل وکرم اور مددوتایید کے ذریعہ ذکر کرنے والوں کے ساتھ ہوتاہے ، ذکر میں مشغول بندوں کا ذکر وہ اپنے پاس موجود فرشتوں میں کرتا ہے . ذکرالہی بندے کے زندہ دل ہونے کی دلیل ہے ، ذکر الہی میں مشغولیت اس بات کی علامت ہے کہ بندہ اپنے مالک ، اپنے خالق ، اپنے رازق، اپنے محسن اور اپنے مربی کے احسانات وعطاء ات کو یاد رکھتا ہے ، اور اسکا شکریہ ادا کررہاہے . اسیلئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو کثرت سے ذکر کی ترغیب دیا کرتے تھے چنانچہ ایک صحابی نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم امور اسلام بہت زیادہ ہیں مجھے کوئی ایسا عمل بتلایئے جس پر میں جم جاوں ، آپ نے فرمایا :”لا يزال لسانك رطبا من ذكر الله”. تمہاری زبان پر ہروقت اللہ کا ذکر جاری رہے ۔

(سنن ترمذی بروایت عبد اللہ بن بسر)

ایک اور حدیث میں ارشاد ہے کہ فإن مثل ذلك كمثل رجل خرج العدو في أثره سراعا حتى إذا أتى على حصن حصين فأحرز نفسه منهم كذلك العبد لا يحرز نفسه من الشيطان إلا بذكر الله قال النبي صلى الله عليه و سلم” ذکر الہی کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص کا پیچھادشمنوں نے کیا اور وہ ان سے بھاگ کر کسی مضبو ط قلعے میں داخل ہوگیا اور اپنے آپ کو محفوظ کرلیا، بعینہ اسی طرح بند ہ اپنے دشمن شیطان سے ذکر الہی کے ذریعہ محفوظ رہتا ہے ۔

(سنن ترمذی)

مذکورہ حدیث میں بھی بعض انہیں کلمات کے ذکر کا بیان ہے جنکے اہتمام کی ترغیب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے یعنیسبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ، اس ذکر عظیم پر ابھارتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

اولا : “یہ کلمے رحمن کو بہت پیا رے ہیں” لہذ اسکا اہتمام کر نے والے سے بھی اللہ تعالی محبت کرتا ہے ، اور اللہ تعا لی جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے کبھی بھی عذاب نہ دیگا ۔اس طرح ان دونوں کلموں کا پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ انکے اہتمام سے بندے کو اللہ کی محبت حاصل ہوتی ہے ۔

ثانیا : یہ کلمے” زبان پر اسقدر آسان ہیں” کہ انکے پڑھنے میں نہ دیر لگتی ہے اور نہ کوئی مشقت محسوس ہوتی ہے، بلکہ ہر چھو ٹا بڑاعالم وجاہل اور عربی وعجمی ان کلمات کو آسانی سے اداکر سکتا ہے اور تھوڑی سی مدت میں کئی بار ادا کرسکتا ہے ۔

ثالثا : ان کلموں کا ایک عظیم فائدہ یہ ہے کہ “قیامت کے دن جب بندں کے اعمال و نامہ ء اعمال تو لے جائیں گے تو یہ کلمے اگر چہ مختصراور زبان پر ہلکے ہیں لیکن ترازومیں بفضلہ تعالی بہت وزنی ثابت ہوں گے” ، اور معلوم ہے کہ اس دن جسکا پلڑا بھاری ہو گیا وہ کا میاب ہو ا اور جسکا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ نا کام ونا مراد رہا ” فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوازِیْنُہ فَہُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍ وَاَمَّامَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہ فَاُمُّہ ھَاوِیَہ ” [القارعة] ” پھر جسکے پلڑے بھاری ہوں گے ، وہ تو دل پسند آرام کی زندگی میں ہوگا ، اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے ، اسکا ٹھکاناہاویہ (جہنم) ہے” ۔ اس لئے ہر مسلمان کو جا ہئے کہ اس کلمے کا اہتمام کرے اور صبح وشام دن ورات اٹھتے بیٹھتے اور چلتے پھر تے اسکا ورد کرتا رہے۔”سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم” ۔

اس کلمے کا معنی ” سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ” اللہ پاک ہے اپنی تعریفوں اور خوبیوں کے ساتھ ، اور اللہ تعالی پاک ہے عظمتوں والا ” اللہ تبارک و تعالی ہر قسم کے عیب اور نقص سے پاک ہے وہ ہر اعتبار سے کامل ہے،نہ اسکی ذات میں نقص ہے اور نہ اسکی صفات میں کسی قسم کا نقص ہے ، نہ اسکے کسی کام میں کوئی نقص ہے اور نہ ہی اسکا کوئی فیصلہ نقص وعیب کا شکارہے، وہ تمام خوبیوں کا حامل اور تمام صفات علیا کا منبع ہے، لہذا وہی ہماری تمام حمدو ثنا کا سزاوار ہے۔وہ اپنی ذات کے لحاظ سے بھی قابل تعریف ہے ، اپنی صفات کے لحاظ سے بھی قابل تعریف ہے اور اپنے افعال کے لحاظ سے بھی قابل ستائش ہے ، اس نے مخلوق پر اپنے احسانات کئے ہیں انہیں اپنی بے پایا ں نعمتوں سے نوازا ہے،اسلئے وہی قابل حمد وثنا ہے اور وہی ہے جو ہماری تمام محبتوں ، رغبتوں اور التجا ئوں کاسزاوار ہے ، وہ بہت عظمت و جلال والا ہے وہ اپنی ذات کے لحاظ سے بھی عظیم ہے ، اپنی سلطنت کے لحاظ سے بھی عظیم ہے، اپنی بے پایاں خوبیوں کے لحاظ سے بھی عظیم ہے ، اپنے علم کے بھی لحاظ سے بھی عظیم ہے ، اپنی حکمت و عدل کے بھی لحاظ سے بھی ہے اور اپنے احسانات وانعامات کے لحاظ سے بھی عظیم ہے ، اسکی عظمت و شان کا مقابلہ کوئی دوسری ذات نہیں کرسکتی ، سبحان اللہ وبحمد ہ سبحان اللہ العظیم ۔

فائدے :

١ : “سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم” کا ورد اللہ تعا لی کا بہترین ذکر ہے ۔

٢ : اللہ تعا لی کی ایک صفت محبت کرنا ہے ۔ ٣ : قیا مت کے دن بندوں کے اعمال اور انکے اجروثواب تولے جائیں گے ۔

٤ : اللہ تعا لی کا فضل واحسان کہ وہ معمولی عمل پر بہت بڑے اجر سے نوازتا ہے ۔

ختم شدہ