یہ اور لعنتی کام/حديث نمبر :16

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :16

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :08/09/ شعبان 1428 ھ، م 20/19، اگست 2007م

یہ اور لعنتی کام

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ:« اتَّقُوا اللَّعَّانَيْنِ ». قَالُوا وَمَا اللَّعَّانَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ:« الَّذِى يَتَخَلَّى فِى طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ فِى ظِلِّهِمْ ».

( صحيح مسلم:269،سنن ابي داود:25.)

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لعنت کا سبب بننے والے دو کاموں سے بچو ، صحابہ کرام نے سوال کیا : اے اللہ کے رسول لعنت کا سبب بننے والے وہ کام کون سے ہیں ؟ آپ نے جواب دیا : لوگوں کے راستے اور لوگوں کے [ بیٹھنے کے] سایے میں قضائے حاجت کرنا ۔

{ صحیح مسلم ، سنن ابو داود } ۔

تشریح : اللہ تبارک وتعالی پاک و صا ف ہے اور پاکی کو پسند فرماتا ہے ، خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے ، اس لئے ہر ایسے کام سے روکتا ہے جو ناپاکی ، گندگی اور قباحت کا سبب بنیں ، گھر کی صفائی ، اور راستے وغیرہ کی صفائی کا تاکیدی حکم دیا ہے ، اور ان جگہوں میں گندگی پھیلانے سے سختی سے منع کرتا ہے ۔ ۔۔۔۔ ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اپنے دروازے کے سامنے صفائی رکھو اور یہودیوں کی طرح وہاں گندگی نہ مچاو ۔

{ الطبرانی الاوسط } ۔

کیونکہ گھروں کے سامنے یا اسی طرح عام راستے اور لوگوں کی بیٹھنے اٹھنے اور مستفید ہونے کی جگہوں میں گندگی کرنا جہاں ایک طرفانسانی صحت کے لئے مضر ہے وہیں دوسرے لوگوں کے لئے سخت تکلیف دہ بھی ہے ، نیز خود گندگی پھیلانے والے کے لئے اس ناحیے سے بھی سخت خسارے کا سبب ہے کہ لوگوں کی بدعائیں اور لعنتیں اس پر ہوتی رہتی ہیں ۔ زیر بحث حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی توجہ اسی طرف دلائی ہے ، چنانچہ آپ نے فرمایا کہ دو ایسے کام کرنے سے بچتے رہو جس کے سبب لوگ تم پر لعنتیں بھیجیں اور تمہیں بدعائیں دیں ، صحابہ نے سوال کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہ کونسے کام ہیں جن کا کرنے والا ملعون قرار دیا جاتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

1– لوگوں کے راستے میں قضائے حاجت کرنا ، یعنی جس راستے پر لوگوں کی آمد و رفت ہو ، خواہ پیدل چلنے والوں کا ہو یا سواری پر ، اسکے ارد گرد پیشاب و پائخانہ سے پرہیز کرو ، کیونکہ اس طرح لوگوں کے جسم و پیر میں نجاست لگ سکتی ہے ، اس کی بدبو سے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے اور بہت ساری بیماریاں کے پیدا ہونے کا خطرہ ہے ۔

2– آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری جگہ جہاں قضائے حاجت سے منع فرمایا وہ سایہ ہے جس سے لوگ مستفید ہوتے ہیں البتہ وہ سایہ جہاں لوگوں کی آمد و رفت نہ ہو اور نہ ہی سایہ حاصل کرنے کے لئے لوگ وہاں بیٹھتے ہوں وہاں قضائے حاجت میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

ایک اور حدیث میں ان دونوں جگہوں کے ساتھ ایک تیسری جگہ ” پانی کے گھاٹ ” کا بھی ذکر آیا ہے ۔

{ سنن ابو داود بروایت معاذ بن جبل } ۔

انہیں جگہوں پر علماء نے ہر اس جگہ کو قیاس کیا ہے جہاں عام لوگوں کی آمد و رفت ہو اور اس سے مستفید ہوتے ہوں ، جیسے : پھلدار درخت ، بازار ، عام منافع کی جگہ ، ٹھہرے پانی اور اسی طرح کی دیگر جگہیں ۔

یہاں ایک نکتہ اور قابل ذکر ہے کہ بہت سے لوگ جب کوئی ایسا کام کرتے ہیں جس سے عام لوگوں کو ضرر لاحق ہوتا ہے اور ان کی یہ حرکت لوگوں پر پوشیدہ رہ جاتی ہے تو عمومی طور پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے کسی نے دیکھا نہیں تو ان کی گالی اور بد دعا سے ہمارا کیا بگڑتا ہے ،کیا مجھے کسی نے دیکھا ہے ؟ کیا ان کی گالیاں ہمیں لگ رہی ہیں ؟ اسی قسم کی اور باتیں کرتے ہیں ، حالانکہ انہیں سوچنا چاہئے کہ اگرچہ لوگوں پر ان کی یہ حرکت پوشیدہ رہ گئی ہے مگر لوگوں کے رب سے پوشیدہ نہیں ہے ، اس لئے اگر وہ لوگوں کے گالی دینے ،برا بھلا کہنے اور لعنت بھیجنے کا سبب بن رہے ہیں تو لوگوں کی گالیاں اور لعنت کے اثر سے بھی محفوظ نہیں رہ سکتے ، ایسے لوگوں کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر غور کرنا چاہئے کہ” جب لعنت کسی کی طرف بھیجی جاتی ہے تو اس شخص تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے، پھر اگر وہ اس لعنت کا مستحق ہوتا ہے تو ٹھیک ورنہ اللہ تعالی سے کہتی ہے کہ اے اللہ مجھے جس طرف بھیجا گیا تھا وہاں پہنچنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، تو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ جہاں سے آئی ہو وہیں واپس چلی جاو ” ۔

{ مسند احمد بروایت ابن مسعود :1/408 } ۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ” جب بندہ لعنت بھیجتا ہے تو یہ لعنت آسمان کی طرف جاتی ہے لیکن آسمان کے دروازے اپنے سامنے بند پاتی ہے، پھر زمین کی طرف پلٹتی ہے اور زمین کے دروازے بھی بند پاتی ہے ، جب اسے کوئی جگہ نہیں ملتی تو جس پر لعنت بھیجی گئی ہے اس کے پاس جاتی ہے ، اگر وہ ملعون قرار دئے جانے کا مستحق ہے تو ٹھیک ورنہ لعنت کرنے والے کی طرف پلٹا دی جاتی ہے “۔

سنن ابوداود بروایت ابودرداء۔

ان دونوں حدیثوں سے پتہ چلا کہ جو شخص کوئی ایسا کام کرتا ہے جو لعنت کا سبب بنتا ہے تو وہ شخص اگرچہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے لیکن اس کے لئے اس عمل کی وجہ سے جو لوگوں کی بدعائیں اور لعنتیں اس پر بھیجی جارہی ہے وہ رائیگاں نہیں جاتیں ، بلکہ رحمت الہی اس کا دامن نہ پکڑے تو وہ لوگوں کی بددعاوں اور لعنتوں کا مستحق ٹھہر تا ہے ، بلکہ ڈرنا چاہئے کہ یہ بددعا کرنے والا اور لعنت بھیجنے والا اگر اللہ کا کوئی مخلص بندہ ہوا یا کوئی مظلوم انسان ٹھہرا تو اس کی بددعا اور لعنت اپنا اثر کئے بغیر نہیں رہے گی ، اس طرح ممکن ہے کہ اپنے اس معمولی کام کی وجہ سے دنیا و آخرت کے خیر سے محروم ہوجائے ۔

فوائد :

۱- مذہب اسلام ہمیں صفائی ، پاکی اور لوگوں کے ساتھ رعایت کا حکم دیتا ہے ۔

۲- عام منافع کی جگہ پر قضائے حاجت حرام اور کبیرہ گناہ ہے ۔

۳- انسان کا عمل اگر لوگوں سے پوشیدہ بھی رہ جائے تو لوگوں کے رب سے پوشیدہ نہیں رہتا ۔

۴- اسلام ہر اس عمل سے روکتا ہے جس سے اللہ کی مخلوق کو ضرر لاحق ہو ۔

ختم شدہ